اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) کی پرفارمنگ آرٹس ڈویژن نے موسیقی کی شام کا اہتمام کیا جس میں برصغیر کی فلمی موسیقی کا نقش بدل دینے والے عظیم کمپوزر ماسٹر غلام حیدر کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔یہ تقریب پی این سی اے میں منعقد ہوئی جس میں فنکاروں، موسیقی کے شائقین، طلبہ اور ثقافتی دل چسپی رکھنے والے افراد نے …
پی این سی اے میں عظیم موسیقار ماسٹر غلام حیدر کو خراجِ عقیدت

مزید خبریں
اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) کی پرفارمنگ آرٹس ڈویژن نے موسیقی کی شام کا اہتمام کیا جس میں برصغیر کی فلمی موسیقی کا نقش بدل دینے والے عظیم کمپوزر ماسٹر غلام حیدر کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔یہ تقریب پی این سی اے میں منعقد ہوئی جس میں فنکاروں، موسیقی کے شائقین، طلبہ اور ثقافتی دل چسپی رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سب شرکاء اس شخصیت کے مداح تھے جسے برصغیر میں فلمی موسیقی کا بنیاد گزار کہا جاتا ہے۔
یہ شام محض ایک کنسرٹ نہیں تھی بلکہ ماضی کی اُن یادگار دھنوں کا سفر تھا جنہوں نے ایک ایسے دور کی نمائندگی کی جو شائستگی، رومانویت اور فنکارانہ عظمت سے بھرپور تھا۔ماسٹر غلام حیدر نے کلاسیکی راگوں کو جدید آرکسٹرا کے ساتھ ہم آہنگ کر کے ایک ایسا نیا انداز تخلیق کیا جو روایت اور جدت کا حسین امتزاج تھا۔ اُن کی موسیقی میں وہ جذباتی تاثیر تھی جو کسی کو مسکرا دیتی، رُلا دیتی یا خوابوں میں لے جاتی۔
اُن کے انتقال کے کئی برس بعد بھی اُن کے گیت دلوں کو چھو لیتے ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اصل فن کبھی پرانا نہیں ہوتا۔تقریب میں نرمَل شاہ، لبنیٰ شہناز، عثمان رئیس، بانو رحمت، استاد رئیس اور فرح لال نے اُن کے شاہکار گیت پیش کیے۔ جب جب ان لازوال دھنوں کو چھیڑا گیا، سامعین نے بھرپور تالیاں بجا کر محبت اور تحسین کا اظہار کیا۔ نغمہ خواں جب شاعرانہ بول اور بامعنی دھنوں کو آواز دیتے تو سامعین ماضی کی سنہری یادوں میں کھو جاتے۔لوگوں کے تاثرات بھی جذبات سے بھرپور تھے۔
ایک خاتون نے نم آنکھوں سے کہا کہ یہ گانے سن کر ایسا لگتا ہے جیسے اپنی موسیقی کی تاریخ کے حسین ترین دور کو دوبارہ جی رہے ہوں۔ایک اور شخص نے کہا کہ پی این سی اے کی یہ کاوش نہ صرف ایک عظیم فنکار کو خراجِ عقیدت ہے بلکہ پاکستان کی ثقافتی وراثت کی نئی قدر شناسی بھی ہے۔ہال کا ماحول بیک وقت پرتاثر اور پُررنگ تھا۔ اسٹیج کو ماسٹر غلام حیدر کی تصویروں سے سجایا گیا تھا جبکہ نرم روشنیوں اور پسِ منظر میں بجنے والی کلاسیکی سازوں کی دھنوں نے شام کو یادگار بنا دیا۔
پی این سی اے کے ایک نمائندے نے مختصر خطاب میں کہا کہ ماسٹر غلام حیدر نے ہماری موسیقی کو ایک پہچان دی ایسی روح جو آج بھی تخلیقی سفر کو جِلا بخشتی ہے۔ انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنا، ہماری فنّی جڑوں کا اعتراف ہے۔تقریب کے اختتام پر سامعین نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں جبکہ فضا غلام حیدر کی دھنوں سے گونج رہی تھی۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ صرف ایک تقریب نہیں تھی بلکہ اُن نغموں سے ایک بار پھر جڑنے کا جذباتی لمحہ تھایہ ثبوت کہ اُن کی موسیقی آج بھی پاکستان کی ثقافتی دھڑکن میں زندہ ہے۔








