پی سی بی نے سال2025 میں کرکٹ کی ترقی کیلئے چیئرمین پی سی بی کی قیادت میں بے شمار مثبت اقدامات کئے، ترجمان

لاہور۔31دسمبر (اے پی پی):پاکستان کرکٹ بورڈ نے سال2025 میں کرکٹ کی ترقی کے لئے چیئرمین پی سی بی کی قیادت میں بے شمار مثبت اقدامات کئے جس سے پاکستانی کرکٹ میں کافی بہتری آئی۔ترجمان کے مطابق ملک میں انٹرنیشنل ایونٹس کامیابی سے فول پروف سکیورٹی کے تحت منعقد اور ملکی سٹیڈیمز کو اپ گریڈ کرنے کے لئے بھی اقدامات کئے گئے جس سے انٹرنیشنل ایونٹس بہترین طور پر منعقد ہوئے۔اسی …

لاہور۔31دسمبر (اے پی پی):پاکستان کرکٹ بورڈ نے سال2025 میں کرکٹ کی ترقی کے لئے چیئرمین پی سی بی کی قیادت میں بے شمار مثبت اقدامات کئے جس سے پاکستانی کرکٹ میں کافی بہتری آئی۔ترجمان کے مطابق ملک میں انٹرنیشنل ایونٹس کامیابی سے فول پروف سکیورٹی کے تحت منعقد اور ملکی سٹیڈیمز کو اپ گریڈ کرنے کے لئے بھی اقدامات کئے گئے جس سے انٹرنیشنل ایونٹس بہترین طور پر منعقد ہوئے۔اسی طرح چیمپئنز ٹرافی 2025 کی تیاریوں کیلئے نیشنل سٹیڈیم کراچی،قزافی سٹیڈیم لاہور، پنڈی کرکٹ سٹیڈیم اور ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں وسیع پیمانے پر اپ گریڈیشن کی گئی۔

اس دوران نئی وکٹیں بنائی گئیں ،ڈریسنگ رومز کو خوبصورت اور فلڈ لائٹس کو بہتر بنایا گیا ۔ جدید ڈیجیٹل سکور سکرینز اور شائقین کیلئے نشستوں و سہولیات کو عالمی معیار کے مطابق بنایا گیا۔سکیورٹی اور لاجسٹکس کے حوالے سے بھی سٹیڈیمز کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا گیا،جس میں جدید سی سی ٹی وی سسٹمز، کنٹرول رومز اور میڈیا انکلوژرز شامل ہیں تاکہ بین الاقوامی براڈ کاسٹنگ کے معیار پر پورا اترا جا سکے۔

سٹیڈیم میں بہتری اور اپ گریڈئشن کے اقدامات سے پاکستان نے انٹرنیشنل ایونٹس جن میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 بلکہ ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائر جیسے انٹرنیشنل ایونٹس کا کامیاب ا نعقادکیا گیا اور انٹرنیشنل معیار کی سکیورٹی مہیا کی گئی ۔انٹرنیشنل ایونٹس کے کامیاب انعقاد سے پاکستان کا امیج نہ صرف مزید بہتر ہوا بلکہ غیر ملکی کھلاڑیوں اور ٹیموں کا پاکستان کی سر زمین پر کھیلنے میں دلچسپی میں اضافہ ہوا ۔

پی سی بی ترجمان کے مطابق سٹیڈیم اپ گریڈیشن کا مقصد صرف ایک ایونٹ تک محدود نہیں بلکہ مستقبل میں مزید عالمی ٹورنامنٹس، آئی سی سی ایونٹس اور غیر ملکی ٹیموں کی میزبانی کو یقینی بنانا ہے۔سابق کرکٹرز اور ماہرین کرکٹ کا کہنا تھا کہ موجودہ پی سی بی مینجمنٹ کے دور میں سٹیڈیم انفراسٹرکچر میں کی جانے والی سرمایہ کاری نے پاکستان سپر لیگ کی توسیع اور کرکٹ میں بہتری کی راہ ہموار ہوئی۔سال 2025 میں پاکستان سپر لیگ کے ایک غیر ملکی کمپنی سے فرنچائز کے اثاثوں کا تخمینہ لگوایا گیا جس سے لیگ کی کمرشل ویلیو میں اضافہ ہوا۔

اسی طرح پی سی بی کے نوجوان کھلاڑیوں کے مواقع فراہم کرنے سے کرکٹ میں بہتری آئی اور پاکستان انڈر 19 ٹیم نے ایشیا کپ کے فائنل میں روایتی حریف بھارت کو شکست دیکر ٹائٹل اپنے نام کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پی سی بی ملکی کرکٹ میں مزید بہتری لانے کے لئے ہر طرح کے اقدامات کررہی ہے،پی سی چیئرمین محسن نقوی کی قیادت میں پاکستان کرکٹ مزید عروج پر جائے گی ۔اسی طرح سال 2025 میں پاکستان نے انتیس سال بعد چیمپینز ٹرافی کی بہترین انتظامات کیساتھ میزبانی کی لیکن قومی ٹیم ٹائٹل کا دفاع نہ کر سکی،پاکستان ٹیم تین ملکی سیریز بھی نہ جیت سکی اور نیوزی لینڈ سے سیریز تین صفر سے ہاری ۔

ویسٹ انڈیز نے دو ایک سے شکست دی ،پاکستان جنوبی افریقہ سے دو ایک اور سری لنکا سے تین صفر سے سیریز جیتا۔قومی ٹیم ورلڈ رینکنگ میں چوتھے نمبر پر رہی۔ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں گرین شرٹس نے بہتر پرفارم کیا۔ دو مرتبہ تین ملکی سیریز جیتی ۔ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کو دو ایک سے سیریز ہرائی ۔ ایشیا کپ کا فائنل بھی کھیلا لیکن بھارت سے تین مرتبہ میچ ہار گئی ۔ نیوزی لینڈ نے ایک کے مقابلے چار میچز سے کامیابی حاصل کی ۔

سال 2025 میں قومی ٹیم کی کمان بھی تبدیل ہوئی ۔ محمد رضوان کو پہلے ٹی ٹوئنٹی اور پھر ون ڈے کی قیادت سے ہٹایا گیا ۔ سلمان علی آغا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 تک پاکستان کے کپتان بنے ،شاہین آفریدی کو ون ڈے ٹیم کی قیادت سونپی گئی۔مائیک ہیسن کو قومی وائٹ بال ٹیم کا ہیڈ کوچ بنایا گیا۔ ٹیسٹ ٹیم کی باگ دوڑ عارضی طور پر اظہر محمود کے سپرد کی گئی جو صرف جنوبی افریقہ ٹیسٹ سیریز تک ہی محدود رہی ۔ سلیکشن کمیٹی میں بھی ردوبدل ہوا ۔حسن چیمہ کو ہٹا کر عثمان ہاشمی کو شامل کیا گیا۔

پاک بھارت جنگ کی فضا گرم ہوئی تو کرکٹ بورڈز میں تنائو بھی بڑھا ۔ابتدا میں پاکستان سے کھیلنے سے انکاری بھارتی ٹیم نے ایشیا کپ میں پاکستان کا مقابلہ کیا ۔ٹورنامنٹ کے دوران بھارتی ٹیم نے سپرٹ آف کرکٹ کی خلاف ورزی کی ۔قومی ٹیم سے ہاتھ نہ ملایا ۔

فائنل میں صدر ایشیئن کرکٹ کونسل محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے بھی انکار کیا ۔ محسن نقوی نے بہترین حکمت عملی اپنائی اور ٹرافی اے سی سی آفس میں رکھوا دی۔پاکستان نے ایمرجنگ ایشیا کپ اور ہانگ کانگ سپر سکسز کے ٹائٹل جیتے جبکہ چیمپئنز ٹرافی اور ویمنز ورلڈ کپ میں اہداف حاصل نہ ہو سکے۔