اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی) پارلیمنٹ نے موجودہ حکومت کے پہلے سال کے دوران 7 قوانین کی منظوری دی جبکہ 7 آرڈیننسز قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے جبکہ 21 بل قومی اسمبلی اور 4 سینیٹ میں متعارف کرائے گئے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے سال کی جاری کارکردگی رپورٹ کے مطابق وزارت پارلیمانی امور نے پارلیمنٹ کو خوش اسلوبی سے چلانے کے حوالے سے …
پی ٹی آئی حکومت کے پہلے سال کی جاری کارکردگی رپورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی) پارلیمنٹ نے موجودہ حکومت کے پہلے سال کے دوران 7 قوانین کی منظوری دی جبکہ 7 آرڈیننسز قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے جبکہ 21 بل قومی اسمبلی اور 4 سینیٹ میں متعارف کرائے گئے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے سال کی جاری کارکردگی رپورٹ کے مطابق وزارت پارلیمانی امور نے پارلیمنٹ کو خوش اسلوبی سے چلانے کے حوالے سے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں اپنے پہلے سال قانون سازی کے حوالے سے اگست 2018ءسے اگست 2019ءتک اہم امور نمٹائے۔ پارلیمنٹ کے سیشن پارلیمانی کیلنڈر کے تحت بروقت طلب کئے گئے اور آئین کے تحت پارلیمانی سال کے لازمی دن پورے کئے گئے۔ اسلامی تعلیمات اور قومی مفادات کے برعکس کوئی بل یا مسودہ پیش نہیں کیا گیا ۔ موجودہ پارلیمنٹ کے پہلے سال کے دوران ہی وزیراعظم کے وقفہ سوالات کے حوالے سے بل پیش کیا گیا۔ کمیٹیوں کی 10 رپورٹیں قومی اسمبلی جبکہ 13 سینیٹ میں پیش کی گئیں۔ ایک سال کے دوران مختلف وزارتوں کے حوالے سے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ہزاروں سوالات کے جواب دیئے گئے۔ موجودہ پارلیمنٹ کی سب سے بڑی کامیابی فاٹا کے علاقوں کی نئی حد بندیوں کے حوالے سے الیکشن ایکٹ 2017ءمیں ترمیم ہے۔ وزارت پارلیمانی امور حکومت کی کفایت شعاری پالیسی پر سختی سے کاربند رہی۔ وفاقی وزیر کے صوابدیدی فنڈ میں سے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ وزیر پارلیمانی امور نے سرکاری گاڑی تک استعمال نہیں کی اور انہوں نے چائے اور تواضع کے اخراجات پر بھی کوئی رقم خرچ نہیں کی۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے اپنے دفتر کے ٹیلی فون کا بل اپنی جیب سے ادا کیا۔ اپنی تنخواہ ایک یتیم خانے کو بھجوائی اور بیرون ملک سفر کے حوالے سے مختص رقم 4 لاکھ 55 ہزار سرکاری خزانے کو واپس کئے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے تمام وزارت کے تمام اخراجات پر کڑی نظر رکھی جس کی وجہ سے ایک کروڑ 29 لاکھ سے زائد کی کفایت شعاری کی گئی۔ وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے عوامی شکایات اور ان کے حل کے حوالے سے کام کی ذاتی طور پر نگرانی کی جس کی وجہ سے وزیراعظم کو بھجوائی جانے والی شکایات میں سے 68 فیصد کا ازالہ کیا گیا۔ کارکردگی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کل 33 ہزار 968 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 22 ہزار 946 شکایات کا ازالہ کیا گیا۔ 11 ہزار 22 شکایات کے ازالے کیلئے کام جاری ہے۔ تمام شکایات پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان صوبوں ، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور سمندر پار پاکستانیوں سے موصول ہوئیں۔








