پی ٹی آئی عوام کی ووٹوں اور حمایت کے ساتھ 2018 میں اقتدار میں آئی، وفاقی وزیر شبلی فراز

اسلام آباد۔23نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نےکہا ہے کہ 2018 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف پاکستان کے عوام کی حمایت اور ووٹوں کی طاقت سے اقتدار میں آئی۔ انتخابات پر گہری نظر رکھنے والی آزاد این جی اوفری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے2018 کے انتخابات کے معیارمیں بہتری کا اعتراف کیااس بارے رپورٹ وزیر اطلاعات نے ٹویٹ کی۔ فافن کی تقابلی …

اسلام آباد۔23نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نےکہا ہے کہ 2018 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف پاکستان کے عوام کی حمایت اور ووٹوں کی طاقت سے اقتدار میں آئی۔ انتخابات پر گہری نظر رکھنے والی آزاد این جی اوفری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے2018 کے انتخابات کے معیارمیں بہتری کا اعتراف کیااس بارے رپورٹ وزیر اطلاعات نے ٹویٹ کی۔ فافن کی تقابلی رپورٹ کے مطابق عام انتخابات2018 میں عذرداریاں 2013 کی نسبت کم رجسٹرڈ ہوئیں۔ فافن کے اعدادوشمار کے مطابق 2013 میں انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کی 133 درخواستیں دائر ہوئیں جبکہ 2018 کے الیکشن کے نتائج سے متعلق 102 درخواستیں دائر ہوئیں۔لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ 2018 میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی کل درخواستیں24 تھیں جب کہ پی ٹی آئی نےالیکشن کمیشن میں 23 درخواستیں دی تھیں۔2013 کے انتخابات میں فافن کے اعداد و شمار کے مطابق پولنگ اسٹیشنوں کے اندر انتخابی مہم کا مواد 3.2 فیصد تھا جو2018 کے الیکشن میں کم ہوکر1.8 فیصدہوگیا۔2013 میں ، ووٹروں کو قومی کے شناختی کارڈ کے علاوہ دستاویزات کے ساتھ ووٹ کاسٹ کرنے کی شرح 9.3 فیصد تھی لیکن 2018 میں یہ تناسب صرف 1.1 رہ گیا۔اسی طرح فافن کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2013 میں پولنگ عملے کا تناسب ،پولنگ ایجنٹ ، سیکیورٹی اہلکار یا دیگر افراد،رازداری کی شرح 17 فیصد تھی جو کم ہوکر 6.8 ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ 2013 میں پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ کرنے کے واقعات 1.2 فی صد رہے جبکہ 2018 میں ایسے واقعے کی کوئی اطلاع نہیں ملی تھی۔2013 میں غیر قانونی افراد کے پولنگ عملے پر دباؤ ڈالنے کے واقعات 3.8 فیصد جو 2018 میں گر کر 0.5 فیصد پر آگئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کی شیئرکردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ2013 میں پولنگ اسٹیشنوں پر پہلے ہی قطار میں کھڑے لوگوں کو وقت ختم ہونےپر ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ ہونے پر ووٹ پول نہ ہونے کی شرح 23.5 تھی جسکی 2018 میں کم رہی ۔ پولنگ اسٹیشن پر موجود امیدواروں اور ایجنٹوں کو پولنگ اسٹیشن نتیجہ فارم (فارم نمبر 45)عدم فراہمی کے واقعات کا تناسب 2013 میں 7.5 تھا جبکہ یہ تناسب 2018 میں کم ہو کر 2.5ہوگئے۔ 2013 میں پولنگ اسٹیشنوں پر تشدد کے واقعات 7.6 فیصدتھےجبکہ 2018 میں یہ واقعات کم ہوکر 1.1 فیصدہے۔2013 میں ووٹرز پر اثرانداز ہونے کی کوشش 2.0 فی صد رہی جو 2018 میں گر کر 0.5 فیصد پر آگئی۔ وفاقی وزیر شبلی فراز نے کہا کہ ہے اب وقت آگیا ہے کہ بی بی سی سمیت غیر ملکی میڈیا ادارے بنیاد پروپیگنڈہ کرنے والوں کا آلہ کاربننے کی بجائے اس حقیقت کو سمجھیں کہ پی ٹی آئی 2018 کے انتخابات میں لوگوں کے ووٹ اور حمایت سے اقتدارمیں آئی۔انہوں نے کہا کہ فوج آئین کے مطابق جمہوری حکومت کی حمایت کرتی ہے۔