اسلام آباد۔27دسمبر (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں مختلف خیال جماعتیں ہیں، ان کا اتحاد منفی ہے، ان لوگوں کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں ہے، یہ صرف ذاتی مفادات کیلئے جمع ہوئے ہیں، عمران خان منتخب وزیراعظم ہیں، انہیں عوام نے مینڈیٹ دیا ہے، وہ ان کے کہنے پر کیوں استعفیٰ دیں، اس وقت ملک کو …
پی ڈی ایم کا اتحاد منفی ہے،وزیراعظم عمران خان کو عوام نے مینڈیٹ دیا ہے، وہ ان کے کہنے پر کیوں استعفیٰ دیں،ملکی مسائل کے حل کیلئے ڈائیلاگ ضروری ہیں،وزیر خارجہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔27دسمبر (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں مختلف خیال جماعتیں ہیں، ان کا اتحاد منفی ہے، ان لوگوں کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں ہے، یہ صرف ذاتی مفادات کیلئے جمع ہوئے ہیں، عمران خان منتخب وزیراعظم ہیں، انہیں عوام نے مینڈیٹ دیا ہے، وہ ان کے کہنے پر کیوں استعفیٰ دیں، اس وقت ملک کو معاشی اور گورننس سمیت دیگر چیلنجز کا سامنا ہے، ملکی مسائل کے حل کیلئے ڈائیلاگ ضروری ہیں۔ اتوار کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عام شہری سمجھتا ہے کہ پاکستان کو اس وقت استحکام کی ضرورت ہے، غیریقینی صورتحال ملکی معیشت کیلئے اچھی نہیں ہے، اسکے علاوہ کوویڈ 19 کی صورتحال کے دوران اس طرح کے اجتماعات غیرضروری ہیں لیکن اپوزیشن جماعتوں کی اپنی سوچ ہے اور وہ اپنے ایجنڈے کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں ذاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اسلئے انہیں عوام میں پذیرائی نہیں مل رہی، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاشی پالیسیوں، انتخابی اصلاحات اور گورننس سمیت دیگر ایشوز پر بات ہونی چاہیے، حکومت ان ایشوز پر اپوزیشن کو بات چیت کیلئے دعوت دے رہی ہے جو ملک کے فائدے کیلئے ہے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اگر لانگ مارچ کرنا چاہتی ہیں تو کریں، حکومت انہیں نہیں روکے گی، ہم تو ان کے استعفے قبول کرنے کیلئے بھی تیار بیٹھے ہیں لیکن یہ لوگ ابھی استعفے دینے کیلئے تیار دکھائی نہیں دے رہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا اسرائیل کے حوالے سے واضح موقف ہے اور حکومت بھی اس حوالے سے واضح بیان دے چکی ہے کہ فلسطین کے منصفانہ حل اور دیرپا امن تک پاکستان اپنے موقف پر کھڑا رہے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی دوست ملک کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی دبائو نہیں ڈالا گیا، دوست ممالک پاکستان کی اسرائیل کے حوالے سے پوزیشن سے واقف ہیں، بعض عناصر سیاسی ضروریات کے تحت ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں لیکن اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔








