پی ڈی ایم کے بیانات میں تضادات ہی تضادات ہیں، یہ سیاسی نابالغ ہیں، لانگ مارچ کی نوبت ہی نہیں آئے گی، پی ڈی ایم والے ایک دوسرے کے لئے بھی بدنیت ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز

اسلام آباد۔30دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے بیانات میں تضادات ہی تضادات ہیں، یہ سیاسی نابالغ ہیں، لانگ مارچ کی نوبت ہی نہیں آئے گی، پی ڈی ایم والے ایک دوسرے کے لئے بھی بدنیت ہیں، پی ڈی ایم خود ہی بے نقاب ہو گئی ہے، ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی، نیب آزاد اور …

اسلام آباد۔30دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے بیانات میں تضادات ہی تضادات ہیں، یہ سیاسی نابالغ ہیں، لانگ مارچ کی نوبت ہی نہیں آئے گی، پی ڈی ایم والے ایک دوسرے کے لئے بھی بدنیت ہیں، پی ڈی ایم خود ہی بے نقاب ہو گئی ہے، ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی، نیب آزاد اور خودمختار ادارہ ہے، حکومت کا نیب کے معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے متضاد بیانات کو پورے پاکستان نے دیکھ لیا، یہ سیاسی نابالغ ہیں جو تحریک چلانے کی کوشش کر رہے ہیں، آج (ن) لیگ کے دو ارکان نے استعفے دینے سے انکار کر دیا، دونوں ارکان کو استعفوں کی تصدیق کے لئے سپیکر قومی اسمبلی نے بلایا تو انہوں نے استعفے دینے کی نفی کی جبکہ مریم نواز نے دونوں ارکان سے کہہ دیا تھا کہ سپیکر کے پاس جائیں اور استعفے منظور کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم خود ہی بے نقاب ہو گئی ہے، ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی، انہیں عوام سے وہ پذیرائی نہیں ملی جس کی یہ توقع کر رہے تھے، لانگ مارچ کی نوبت ہی نہیں آئے گی، پی ڈی ایم والے ایک دوسرے کے لئے بھی بدنیت ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہے اور وہ خود متنازعہ بن گئے ہیں، مولانا فضل الرحمان (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی پر اور (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمان پر انحصار کر رہے ہیں، جب ایسی صورتحال ہو تو کچھ بھی نہیں ہوتا، ان کا بیانیہ بھی آپس میں نہیں مل رہا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کو عوام نے مسترد کر دیا، عوام ہمیشہ نظریئے کے لئے نکلتے ہیں، عوام کسی کے ذاتی مفادات کی تحریک کے پیچھے نہیں جاتے۔ ایک سوال کے جواب میں سینیٹیر شبلی فراز نے کہا کہ نیب کی ترجمانی کرنا ہمارا کام نہیں، نیب جانے اور اسکا کام جانے، ہم نے نیب بنائی نہ ہی نیب کا قانون بنایا، نیب کی آزاد اور خودمختار ادارہ ہے، حکومت کا نیب یا کسی بھی تفتیشی ادارے کے کام میں کوئی عمل دخل نہیں ہے اور نہ ہی حکومت ان کے کام میں کسی قسم کے روڑے اٹکا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات خواجہ آصف کی نہیں پورے نظام کی ہے، خواجہ آصف اپنی صفائی دینے کے بجائے الزامات لگا رہے ہیں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنمائوں نے ایک منظم طریقے سے منی لانڈرنگ کی اور کرپشن قوانین کو اپنے ذاتی فائدے کے لئے استعمال کیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ کہنا غلط ہے کہ یہ سیاسی انتقام ہے، یہ اگر اپنی منی ٹریل دے دیں تو بات ہی ختم ہو جائے، ان کے پاس منی ٹریل نہیں ہے اس لئے یہ معاملے کو الجھا دیتے ہیں، اپوزیشن کو الزامات لگانے کے بجائے منی لانڈرنگ، کرپشن سے متعلق عدالت میں ثبوت پیش کرنے چاہئیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈائیلاگ کی وزیراعظم عمران خان سمیت پوری پارٹی حمایت کرتی ہے، صرف اپوزیشن کے کیسز پر بات نہیں ہو سکتی، ہر بات پارلیمنٹ کے فورم پر ہونی چاہیے۔

مزید خبریں