چند ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بڑھتے اثر و رسوخ پر اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق سربراہ کی تشویش

اقوام متحدہ ۔11نومبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر تُرک نے خبردار کیا ہے کہ چند بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ہاتھوں طاقت کا ارتکاز اور مصنوعی ذہانت کے ساتھ ان کا ملاپ عالمی سطح پر انسانی حقوق کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی ضابطہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے حقوقِ انسانی دفتر …

اقوام متحدہ ۔11نومبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر تُرک نے خبردار کیا ہے کہ چند بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ہاتھوں طاقت کا ارتکاز اور مصنوعی ذہانت کے ساتھ ان کا ملاپ عالمی سطح پر انسانی حقوق کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی ضابطہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے حقوقِ انسانی دفتر میں دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں تُرک نے کہا کہ دنیا بھر میں جمہوریت کو لاحق خطرات بڑھ رہے ہیں اور کئی ممالک آمریت کی جانب پھسلنے کے خدشے سے دوچار ہیں

۔ ان کے مطابق اس صورتحال میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ چند ٹیکنالوجی کمپنیوں کی طاقت پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی۔انہوں نے بتایا کہ آج صرف سات سے آٹھ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اتنی دولت رکھتی ہیں جتنی کئی ترقی یافتہ ممالک کی مکمل معیشتیں بھی نہیں رکھتیں۔انہوں نے کہاکہ ان کمپنیوں نے بے پناہ طاقت جمع کر لی ہے، اور ہم سب جانتے ہیں کہ اگر طاقت کو قانون اور انسانی حقوق کے عالمی ضابطوں کے دائرے میں محدود نہ کیا جائے تو یہ استحصال اور تسلط کا باعث بن سکتی ہے۔

انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے کہا کہ انہیں گہری تشویش ہے کہ اگر کارپوریٹ طاقت کو قانون کے ذریعے محدود نہ کیا گیا تو یہ آئندہ برسوں میں ایک بہت بڑا عالمی چیلنج بن جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ شعبہ ہے جس پر ہمیں بطور انسانی حقوق کی عالمی برادری مزید توجہ اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔