سیالکوٹ۔11مئی (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر پیسٹ وارننگ و کوالٹی کنٹرول محکمہ زراعت (پلانٹ پروٹیکشن )ڈاکٹر مقصود احمد نے کہاہے کہ چنے کی فصل سے جڑی بوٹیوں کی تلفی سے پیداوارمیں اضافہ کیاجاسکتاہے،چنے کی فصل کو پیازی باتھو‘چھنکنی بوٹی،لہلی رت پھلائی، دمبی سٹی اور ریواڑی نقصان پہنچاتی ہے،جڑی بوٹیوں کی تعداد کم ہونے کی صورت میں جڑی بوٹی مارزہروں کی بجائے گوڈی کی مدد سے جڑی بوٹیوں کی تلفی کرنی چاہئیے۔انہوں …
چنے کی فصل سے جڑی بوٹیوں کی تلفی سے پیداوارمیں اضافہ کیاجاسکتاہے، ڈاکٹر مقصود احمد

مزید خبریں
سیالکوٹ۔11مئی (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر پیسٹ وارننگ و کوالٹی کنٹرول محکمہ زراعت (پلانٹ پروٹیکشن )ڈاکٹر مقصود احمد نے کہاہے کہ چنے کی فصل سے جڑی بوٹیوں کی تلفی سے پیداوارمیں اضافہ کیاجاسکتاہے،چنے کی فصل کو پیازی باتھو‘چھنکنی بوٹی،لہلی رت پھلائی، دمبی سٹی اور ریواڑی نقصان پہنچاتی ہے،جڑی بوٹیوں کی تعداد کم ہونے کی صورت میں جڑی بوٹی مارزہروں کی بجائے گوڈی کی مدد سے جڑی بوٹیوں کی تلفی کرنی چاہئیے۔انہوں نے”اے پی پی“کو بتایا کہ ریتلے علاقے میں جڑی بوٹیوں کی تلفی بذریعہ روٹری آسان طریقہ ہے،جڑی بوٹیوں کے تدارک کے لئے کیمیائی زہروں کا استعمال ایک موثر طریقہ ہے
تاہم بارانی علاقوں میں ان کا استعمال نہایت احتیاط سے کرناچاہئیے‘جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے محکمہ زراعت کے مقامی عملہ کے مشورہ سے زہروں کا استعمال کرناچاہئیے۔چنے کی فصل کو پانی کی کم ضرورت ہے ۔بارشیں کم ہونے کی صورت میں پیداوارمتاثر ہوتی ہے‘آبپاشی علاقوں میں بارش نہ ہونے کی صورت میں پھول آنے پر اگر فصل سوکا محسوس کرنے لگے تو ہلکی آبپاشی کی جائے۔








