چوہدری شوگر ملز شریف خاندان کی منی لانڈرنگ کا گڑھ تھی، قاضی فیملی کے نام پر منی لانڈرنگ ہوئی، معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر

اسلام آباد ۔ 7 اگست (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ چوہدری شوگر ملز شریف خاندان کی منی لانڈرنگ کا گڑھ تھی، قاضی فیملی کے نام پر منی لانڈرنگ ہوئی، ان کا کھل کر کردار سامنے نہیں آیا، مریم نواز 2008ءسے 2010ءکے دوران چوہدری شوگر ملز کی شیئر ہولڈر رہیں، ناصر لوطا نے بیان حلفی دیا ہے کہ اس کا چوہدری …

اسلام آباد ۔ 7 اگست (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ چوہدری شوگر ملز شریف خاندان کی منی لانڈرنگ کا گڑھ تھی، قاضی فیملی کے نام پر منی لانڈرنگ ہوئی، ان کا کھل کر کردار سامنے نہیں آیا، مریم نواز 2008ءسے 2010ءکے دوران چوہدری شوگر ملز کی شیئر ہولڈر رہیں، ناصر لوطا نے بیان حلفی دیا ہے کہ اس کا چوہدری شوگر ملز میں کبھی کوئی شیئر نہیں تھا، ناصر لوطا پراسیکیوشن کا گواہ بن گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشی حالات کی وجہ سے دشمن آج ہمارے خلاف اوچھی حر کتیں کر رہا ہے، اس وقت کشمیر کا معاملہ انتہائی اہم ہے لیکن دیگر معاملات پر بھی بات کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1991ءمیں شریف خاندان نے چوہدری شوگر ملز کے نام سے کمپنی بنائی، چوہدری شوگر ملز کےلئے غیر ملکی کمپنیوں سے 15 ملین ڈالر کا قرض لیا گیا، بحرین میں قرض لیا گیا اور آف شور کمپنی کے ذریعے سبسڈی لی گئی، غیر ملکی قرض مل کی مشینری خریدنے کےلئے لیا گیا، کمپنی کا قرض ابھی موصول نہیں ہوا تو شوگر مل بن گئی، کہا گیا کہ جلدی تھی اس لئے مشینری پہلے ہی خرید لی۔