اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی) پارلیمنٹ کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کی جانب سے محکمانہ آڈٹ کمیٹیوں( ڈی اے سی) کے باقاعدگی کے ساتھ اجلاس منعقد نہ کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسلسل 6ماہ سے ڈی اے سی منعقد نہ کرنے والے سیکرٹریز کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ جس وزارت یا ڈویژن نے ڈی …
چیئرمین رانا تنویر حسین کی زیرصدارت پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس ،مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کی جانب سے محکمانہ آڈٹ کمیٹیوں( ڈی اے سی) کے باقاعدگی کے ساتھ اجلاس منعقد نہ کرنے پر اظہارتشویش ، مسلسل 6ماہ سے ڈی اے سی منعقد نہ کرنے والے سیکرٹریز کو طلب کرنے کا فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی) پارلیمنٹ کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کی جانب سے محکمانہ آڈٹ کمیٹیوں( ڈی اے سی) کے باقاعدگی کے ساتھ اجلاس منعقد نہ کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسلسل 6ماہ سے ڈی اے سی منعقد نہ کرنے والے سیکرٹریز کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ جس وزارت یا ڈویژن نے ڈی اے سی منعقد نہ کی تو اس کے متعلقہ افسران کی تنخواہ روکنے کے لئے سپیکر قومی اسمبلی سے رجوع کیا جائے گا۔ اجلاس بدھ کو پی اے سی کے چیئرمین رانا تنویر حسین کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان مشاہد حسین سید، شاہدہ اختر علی، شیریں رحمان، راجہ ریاض احمد، خواجہ محمد آصف، منزہ حسن، راجہ پرویز اشرف اور ایاز صادق سمیت متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ 1980ءسے زیرالتواءآڈٹ اعتراضات کے حوالے سے 19رپورٹیں قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی اے سی کی ری سٹرکچرنگ کے حوالے سے رپورٹ آ گئی ہے، اس کا جائزہ لے کر پی اے سی کو قابل عمل تجاویز کے ذریعے مزید موثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ 52میں سے صرف 10وزارتوں اور ڈویژنوں میں ڈی اے سی کے اجلاس منعقد کیے گئے اگر ہر ماہ یہ وزارتیں ڈی اے سی منعقدکریں تو پی اے سی کا کام آسان ہو جائے گا۔ آڈیٹر جنرل نے کہا کہ ہم نے تمام پرنسپل اکاﺅنٹنگ افسران کو اس حوالے سے خطوط لکھ دئیے ہیں۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ آڈیٹر جنرل ایسی تمام وزارتوں کے نام لکھ کر دیں جنہوں نے 6ماہ سے ڈی اے سی کے اجلاس منعقد نہیں کیے۔ پی اے سی کے ارکان نے تجویز دی کہ ایسے تمام ڈیفالٹرز کو پی اے سی میں طلب کیا جائے جنہوں نے 6ماہ میں ایک بھی ڈی اے سی منعقد نہیں کی۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ پچھلے 6ماہ میں 4ارب 60کروڑ کی ریکوری ہوئی ہے جو بہت کم ہے۔ آڈیٹر جنرل نے کہا کہ مارچ سے جون جولائی تک کورونا کی صورتحال کی وجہ سے ریکوریوں کی رفتار سست رہی تاہم موجودہ پی اے سی میں اب تک 66ارب سے زائدکی ریکوری کی ہے۔ سردار ایاز صادق نے کہاکہ عملدرآمد کمیٹی کو وزارتوں کی جانب سے پی اے سی کی ہدایات پر عملدرآمد میں مسائل کا سامنا ہے۔ پی اے سی کے چیئرمین نے کہا کہ ٹربیونلز نامکمل ہونے کی بناءپر ریکوریوں میں مشکلات کا سامنا ہے، اس معاملے پر وزیراعظم کو خط لکھا ہے۔ پی اے سی کے ارکان نے تجویز دی کہ اس معاملے پر وضاحت کے لئے پہلے سیکرٹری قانون اور اٹارنی جنرل کو بلایا جائے۔ پی اے سی کو بتایاگیا کہ مالیاتی امور میں قانون کے مطابق معاملہ 6ماہ پرانا ہو جائے تو اس پر حکم امتناعی جاری نہیں ہو سکتا۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہ قانون میں ہر معاملے پر ٹائم فریم موجود ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیںہوتا۔ پی اے سی نے آئندہ اجلاس میں سیکرٹری قانون اور اٹارنی جنرل کو طلب کرنے کی ہدایت کی۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہ پی اے سی کے اجلاسوں کے منٹس کی تیاری صحیح طریقہ سے نہیں ہوتی، ریکارڈنگ سن لیں معلوم ہو جائے گا۔ یہ لوگ پارٹیوں سے مل جاتے ہیں اس کی وجہ سے ریکوریوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ کے 2012-13ءکے آڈٹ اعتراضات کے جائزہ کے دوران پی اے سی کے استفسار پر بتایا گیا کہ بینظیر انکم سپورٹ کی صرف 2مرتبہ ڈی اے سی منعقد ہوئی ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سیکرٹری یوسف خان نے کہا کہ ایک ڈی اے سی گزشتہ سال اور ایک حالیہ دنوں میں ہوئی ہے، کورونا کی صورتحال کے دوران ہم نے 200ارب کی رقم تقسیم کی، یقین دلاتے ہیں کہ آئندہ ڈی اے سی کے اجلاس باقاعدگی سے منعقدکرائیں گے۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ ڈی اے سی کا انعقاد لازمی ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ کورونا تو اب آیا ہے اس سے پہلے بھی انہوں نے ڈی اے سی نہیں کی، ان کو کہا جائے کہ یہ جائیں اور ڈی اے سی کر کے پی اے سی میں آئیں۔ حنا ربانی کھر، خواجہ شیراز محمود سمیت دیگر ارکان نے بھی ڈی اے سی کے انعقاد پر زور دیا اور کہا کہ ان کو واپس بھیجا جائے اور کہا جائے کہ ڈی اے سی کر کے پی اے سی میں پیش ہوں۔ سردار ایاز صادق نے تجویز دی کہ جو بھی ڈی اے سی منعقد نہ کرے اس کی تنخواہ روک لی جائے۔ اس حوالے سے سپیکر کے ذریعے اکاﺅنٹنٹ جنرل کو ہدایات ارسال کی جائیں۔ منزہ حسن نے کہا کہ ایک دفعہ وارننگ دی جائے پھر یہ قدم اٹھایا جائے۔ پی اے سی نے فیصلہ کیا کہ ایک دفعہ تمام پرنسپل اکاﺅنٹنگ افسران کو محرم کے بعد طلب کیا جائے گا اس کے بعد اگر کسی نے پی اے سی کے احکامات نظرانداز کیے تو متعلقہ افسران کی تنخواہیں روکنے کے حوالے سے عملی قدم اٹھایا جائے گا۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے آڈٹ اعتراضات کے جائزہ کے دوران پیپرا رولز کے برعکس پرنٹنگ کرانے کے حوالے سے سیکرٹری یوسف خان نے بتایا کہ ہماری پہلی ترجیح سرکاری اداروں سے کام کرانا ہوتا ہے مگر بعض دفعہ پرنٹنگ کارپوریشن سے معیار اور ٹائم فریم کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ پی اے سی کے چیئرمین نے کہا کہ جتنی بھی ہنگامی حالت کیوں نہ ہو پیپرا رولز کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ پیپرا رولز کے قاعدہ 24میں ایمرجنسی کی صورتحال کی وضاحت موجود ہے۔ آڈیٹر جنرل نے کہا کہ قانونی طریقہ کار کو بائی پاس نہیں کیا جا سکتا۔ پی اے سی نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہدایت کی کہ آئندہ اس قسم کی خلاف ورزیوں کو دہرایا نہ جائے۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ رقوم کی ترسیل میں بھی بے قاعدگیاں ہوتی ہیں ان کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سیکرٹری بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے پی اے سی کو ادارے کے قواعد و ضوابط سے آگاہ کیا اور کہا کہ ادارے کا بورڈ بااختیار ہے، ہم نے سارا عمل لاءڈویژن سے رائے لینے کے بعد مکمل کیا ہے۔ پی اے سی نے آڈیٹر جنرل کو ہدایت کی کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ان آڈٹ اعتراضات کا ڈی اے سی میں جائزہ لیا جائے اس کے بعد پی اے سی میں لایا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پی اے سی کو چھوٹی چھوٹی چیزوں میں نہ الجھایا جائے۔








