اسلام آباد ۔ 07 جولائی (اے پی پی)چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے محب وطن لوگوں نے ڈاکٹر ایم اے صوفی جیسے لوگوں کو سامنے رکھتے ہوئے نئی تاریخ رقم کی ہے ‘ڈاکٹر ایم اے صوفی جیسے لوگ قوم اور معاشرے کا اثاثہ ہوتے ہیں ‘کیا ہم آج اس پاکستان کو بنانے یا اس ملک کو اس ڈگر پر چلانے میں کامیاب ہوئے ہیں جس …
چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی‘ خواجہ سعد رفیق‘ سرتاج عزیز اور دیگر کا ڈاکٹر ایم اے صوفی کے تعزیتی ریفرنس کی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 07 جولائی (اے پی پی)چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے محب وطن لوگوں نے ڈاکٹر ایم اے صوفی جیسے لوگوں کو سامنے رکھتے ہوئے نئی تاریخ رقم کی ہے ‘ڈاکٹر ایم اے صوفی جیسے لوگ قوم اور معاشرے کا اثاثہ ہوتے ہیں ‘کیا ہم آج اس پاکستان کو بنانے یا اس ملک کو اس ڈگر پر چلانے میں کامیاب ہوئے ہیں جس کا خواب قائداعظم محمد علی جناح نے دیکھا تھا ‘ ڈاکٹر ایم اے صوفی جیسے محب وطن پاکستانیوں کی جدوجہد اور بے پناہ قربانیوں کے بعد یہ وطن حاصل کیا گیا ہے ‘ڈاکٹر ایم اے صوفی اپنے افکار کی صورت میں آج بھی ہمارے درمیان ہیں ‘ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ وہ جو ورثہ دے کر گئے ہیں اس پر کس حد تک عمل کیا گیا ہے ۔وہ جمعہ کو اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ڈاکٹر ایم اے صوفی کے تعزیتی ریفرنس کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ‘وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز ‘وزیراعظم کے ترجمان ڈاکٹر مصدق ملک‘اٹارٹی جنرل اشتر اوصاف ‘ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند‘جنرل (ر) رضا ‘صوفی خاندان کے تعلق رکھنے والے افراد ‘ڈاکٹر ایم اے صوفی کے رفقاءکار کی بڑی تعداد اس تقریب میں شریک تھی ۔ڈاکٹر ایم اے صوفی کے صاحبزادے ڈاکٹر احمر بلال صوفی نے کہا کہ میرے والد محترم ڈاکٹر ایم اے صوفی کے افکار ‘ کام ‘سوچ اور قائداعظم سے والہانہ محبت اور پاکستان سے محبت بے مثال تھی ۔یہ تعزیتی ریفرنس منعقد کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اپنی نئی نسل کو بتائیں کہ ہمارے والد محترم کے افکار کیا تھیں اور انھیں کس طرح ملکر آگے بڑھایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ مجھے اعلی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اقوام متحدہ میں نوکری ملی تو اپنے والد محترم ڈاکٹر ایم اے صوفی سے اجازت لینے گیا تو انہوں نے ایک ہی بات کی کہ وہ کیسا علم ہے جو اپنے ملک کے کام نہ آئے ‘ یہ علم ہی باعث رزق اور صدقہ جاریہ بھی ہے ۔








