اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس چیئرمین سینیٹر عمر فاروق کی زیر صدارت منعقد ہواجس میں کمیٹی کے اراکین سینیٹر قراة العین مری، سینیٹر عبدالواسع، سینیٹر رانا محمود الحسن، سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی، سینیٹر ہدایت اللہ خان، سینیٹر جام سیف اللہ خان، سینیٹر عامر ولی الدین چشتی اور سینیٹر بلال احمد خان نے اجلاس میں شرکت کی۔کمیٹی نے وفاقی وزیر پٹرولیم کی عدم …
چیئرمین سینیٹر عمر فاروق کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس چیئرمین سینیٹر عمر فاروق کی زیر صدارت منعقد ہواجس میں کمیٹی کے اراکین سینیٹر قراة العین مری، سینیٹر عبدالواسع، سینیٹر رانا محمود الحسن، سینیٹر میر دوستین خان ڈومکی، سینیٹر ہدایت اللہ خان، سینیٹر جام سیف اللہ خان، سینیٹر عامر ولی الدین چشتی اور سینیٹر بلال احمد خان نے اجلاس میں شرکت کی۔کمیٹی نے وفاقی وزیر پٹرولیم کی عدم حاضری پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاسوں میں ان کی موجودگی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔
کمیٹی نے وزارت پٹرولیم میں بڑھتے ہوئے ایڈہاک ازم اور افسران کے پاس مکمل ڈیٹا کی عدم موجودگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔کمیٹی نے کوئٹہ اور سندھ میں گیس کے کم پریشر اور طویل بندش کے مسئلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایس جی پی ایل اور ایس این جی پی ایل کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔کمیٹی کےچیئرمین نے نشاندہی کی کہ کوئٹہ میں دن کے وقت بھی گیس کی مکمل عدم دستیابی شہریوں کی زندگی بری طرح متاثر کر رہی ہے۔وزارت پٹرولیم کے حکام نے بریفنگ دی کہ ملک بھر میں لوڈ مینجمنٹ کے تحت رات 10 بجے سے صبح 5 بجے تک گیس بندش نافذ ہے۔
سیکرٹری پٹرولیم نے سندھ اور بلوچستان میں گیس پائپ لائنوں کی بحالی کے جاری کام کے بارے میں آگاہ کیا اور بتایا کہ کوئٹہ میں گیس میٹر چھیڑ چھاڑ اور سکشن کمپریسر کے استعمال کی وجہ سے ٹیل اینڈ صارفین متاثر ہوتے ہیں۔کمیٹی کے چیئرمین نے ہدایت کی کہ ان مسائل کے مستقل حل کے لیے موثر اقدامات یقینی بنائے جائیں۔کمیٹی کو ریکو ڈک منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ سیکرٹری پٹرولیم نے بتایا کہ 20 فیصد زمینی کام مکمل ہو چکا ہے اور منصوبہ 2028ء کے آخر تک پیداواری مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔ انہوں نے کمیٹی کو منصوبہ کی سائٹ کے دورے کی بھی دعوت دی۔کمیٹی کےچیئرمین نے بیرک کے نمائندے کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں کمپنی کی آپریشنل ٹیم کے نمائندے کی شمولیت یقینی بنائی جائے۔
سینیٹر عامر ولی الدین چشتی نے کمپنی کی بلوچستان میں سی ایس آر سرگرمیوں کے بارے میں سوالات اٹھائے جس پر بتایا گیا کہ صاف پانی کی فراہمی اور تعلیمی سہولیات کے منصوبے جاری ہیں۔کمیٹی نے بین الاقوامی اداروں میں بلوچستان کے 27 نوجوانوں کی تربیت کے لیے اپنائے گئے سلیکشن معیار فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی اور بتایا کہ مقامی آبادی کو زیادہ سے زیادہ روزگار فراہم کیا جائے۔کمیٹی نے جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ (جے جے وی ایل) کے انتظامی امور کا جائزہ لیا اور آئندہ اجلاس میں تاریخی پس منظر سمیت تفصیلی بریفنگ پیش کرنے کی ہدایت کی۔پچھلی ہدایات کے تحت مٹی کے تیل، ایل ڈی او اور سولوینٹس سے متعلق معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے چیئرمین نے ان مصنوعات کو پٹرول میں ملانے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا جس سے ماحول کو نقصان پہنچتا ہے۔
کمیٹی نے نامکمل ڈیٹا پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے اوگرا اور ڈی جی آئل کو آخری وارننگ دینے اور مسلسل خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے کی ہدایت کی۔ڈی جی آئل نے گرین فیلڈ اور برائون فیلڈ ریفائنری پالیسیوں پر بریفنگ دی۔ اراکین نے سیلز ٹیکس پالیسی کے مسائل کے باعث سرمایہ کاری میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی کےچیئرمین نے ہدایت کی کہ وزارت خزانہ اور وزارت پٹرولیم مشترکہ طور پر آئندہ اجلاس میں سرمایہ کار دوست سیلز ٹیکس ڈھانچہ مرتب کریں۔کمیٹی نے اوجی ڈی سی ایل کے ایک ملازم سے متعلق معاملہ بھی اٹھایا اور ہدایات دیں کہ مسئلے کا ازالہ کرتے ہوئے رپورٹ پیش کی جائے۔سینیٹر ہدایت اللہ اور سینیٹر عبد الواسع نے خیبر پختونخوا میں نئےگیس کنکشنز کے اجراء سے متعلق مسائل اٹھائے۔ وزارت نے یقین دہانی کرائی کہ معاملے پر کام جاری ہے اور بتایا کہ صوبے میں تقریباً 70 فیصد درخواستوں پر نئے کنکشنز اور میٹرز نصب کیے جا چکے ہیں۔








