چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہےکہ پاکستان، پارلیمانی سفارتکاری، تجارت کے فروغ اور عوامی روابط کو مزید وسعت دے کر کینیڈا کے ساتھ اپنی دیرینہ دوستی کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔منگل کوکینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئےچیئرمین سینیٹ نے انیتا آنند کو پاکستان کے پہلے …
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا پارلیمانی سفارتکاری، تجارت اور عوامی روابط کے ذریعے پاکستان۔کینیڈا تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر زور

مزید خبریں
اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہےکہ پاکستان، پارلیمانی سفارتکاری، تجارت کے فروغ اور عوامی روابط کو مزید وسعت دے کر کینیڈا کے ساتھ اپنی دیرینہ دوستی کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔منگل کوکینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئےچیئرمین سینیٹ نے انیتا آنند کو پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر خوش آمدید کہتے ہوئے سینیٹ، پارلیمنٹ اور عوامِ پاکستان کی جانب سے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط دوستانہ تعلقات باہمی احترام، مشترکہ مفادات، تعمیری سیاسی مکالمے، بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون، تعلیمی تبادلوں اور کینیڈا میں مقیم متحرک پاکستانی کمیونٹی کی گراں قدر خدمات پر استوار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارت پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات کا بنیادی ستون ہے اور کینیڈا پاکستان کے قابلِ اعتماد اقتصادی شراکت داروں میں شامل ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کینیڈا سے درآمد کی جانے والی زرعی اجناس، خصوصاً کینولا، سویابین اور چنے، پاکستان کی غذائی سلامتی، زرعی شعبے اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیر خارجہ انیتا آنند کے اوٹاوا میں ہونے والے مذاکرات کے مثبت نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کو مزید تقویت ملی ہے۔ انہوں نے 12 جنوری 2026 کو کراچی بندرگاہ پر کینیڈین کینولا کی پہلی کھیپ کی آمد کو اقتصادی تعاون کے فروغ کی ایک اہم علامت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں پارلیمانی سفارتکاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے اور پارلیمانیں مکالمے، باہمی اعتماد، امن اور پائیدار ترقی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی) کے بانی چیئرمین کی حیثیت سے انہوں نے کینیڈا کو اس فورم میں فعال شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی روابط کا فروغ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ثابت ہوگا۔چیئرمین سینیٹ نے توانائی، صاف ٹیکنالوجی، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیکسٹائل، سرمایہ کاری اور اختراع جیسے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کی جدید تکنیکی مہارت اور پاکستان کی نوجوان افرادی قوت، اس کا اسٹریٹجک محلِ وقوع اور وسیع صارفین کی منڈی دونوں ممالک کے لیے باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وزیر خارجہ انیتا آنند کا یہ دورہ پاکستان اور کینیڈا کے درمیان دیرینہ دوستی کو مزید مستحکم کرے گا اور مختلف شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں ہموار کرے گا۔اپنے خطاب کے اختتام پر چیئرمین سینیٹ نے کینیڈا کے سابق وزیراعظم اور نوبیل امن انعام یافتہ لیسٹر بی پیئرسن کا قول نقل کرتے ہوئے کہا کہ ’’پائیدار امن صرف اقوام کے درمیان بہتر باہمی فہم و ادراک سے ہی ممکن ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ پیغام آج بھی اتنا ہی مؤثر ہے، کیونکہ مضبوط بین الاقوامی شراکت داریاں صرف معاہدوں سے نہیں بلکہ اعتماد، مکالمے اور مضبوط انسانی روابط سے قائم ہوتی ہیں۔انہوں نے پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کینیڈا کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دی جائے گی اور دونوں ممالک کی شراکت داری آنے والے برسوں میں مزید مستحکم ہوگی۔
بعد ازاں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد میں کینیڈا کی وزیر خارجہ محترمہ انیتا آنند اور ان کے وفد سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے پارلیمنٹ اور عوامِ پاکستان کی جانب سے وزیر خارجہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون اور پارلیمانی روابط کو مزید فروغ دینے کا باعث بنے گا۔چیئرمین سینیٹ نے انیتا آنند کی عوامی خدمت، قانون اور تدریس کے شعبوں میں نمایاں خدمات کو سراہتے ہوئے مختلف اہم وزارتوں میں ان کی مؤثر قیادت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطحی روابط میں حالیہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اور کینیڈا تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، تعلیم اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ کینیڈا ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 1947ء میں پاکستان کے قیام کے بعد اسے تسلیم کیا، جس سے ایک مضبوط اور دیرپا دوطرفہ تعلقات کی بنیاد رکھی گئی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک نے 2022ء میں سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منائی، جو مشترکہ تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔چیئرمین سینیٹ نے بطور وزیراعظم اپنے دور میں کینیڈا کے سابق وزیر برائے شہریت، امیگریشن و کثیرالثقافتی امور جیسن کینی سے ہونے والی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں امیگریشن، پاکستانیوں کے لیے روزگار کے مواقع اور دوطرفہ تعاون سمیت اہم امور پر تبادلۂ خیال ہوا تھا۔ انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات سیاسی، اقتصادی، پارلیمانی اور ثقافتی شعبوں میں مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیر خارجہ انیتا آنند کے اوٹاوا میں ہونے والے مذاکرات اور اسلام آباد میں پاکستان۔کینیڈا دوطرفہ سیاسی مشاورت کے چھٹے دور کے مثبت نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان سے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، کان کنی، اہم معدنیات، توانائی، موسمیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعلیم اور عوامی روابط میں تعاون کے نئے امکانات روشن ہوئے ہیں۔
چیئرمین سینیٹ نے پارلیمانی سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پاکستان اور کینیڈا کی پارلیمانوں کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط پر اطمینان کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے پارلیمانی فرینڈشپ گروپس کے درمیان تعاون کو مزید مؤثر بنانے کی تجویز دی تاکہ موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی، امن و سلامتی اور پائیدار ترقی جیسے عالمی چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹا جا سکے۔ انہوں نے سینیٹر سلیم مانڈوی والا، کینیڈا۔پاکستان فرینڈشپ گروپ کی چیئر رکن پارلیمنٹ سلمیٰ زاہد اور سینیٹر سلمیٰ عطاء اللہ جان کی خدمات کو بھی سراہا۔انہوں نے بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی ) کے بانی چیئرمین کی حیثیت سے کینیڈا پر زور دیا کہ وہ اس فورم میں فعال کردار ادا کرے اور جمہوری طرز حکمرانی، امن کے فروغ اور جامع ترقی کے حوالے سے اپنے تجربات سے استفادہ کرنے کا موقع فراہم کرے۔چیئرمین سینیٹ نے اقوام متحدہ، بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو )، دولتِ مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن (سی پی اے ) اور دولتِ مشترکہ سمیت مختلف کثیرالجہتی فورمز پر پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے پاکستان میں جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لیے کینیڈا کے تعاون کو سراہا اور عالمی و علاقائی امن کے فروغ میں دونوں ممالک کے تعمیری کردار کی تعریف کی۔اقتصادی تعاون پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے دوطرفہ تجارت میں مسلسل اضافے کا خیرمقدم کیا اور صاف ٹیکنالوجی، توانائی، تیل و گیس، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات اجاگر کیے۔ انہوں نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی ) کے تحت کان کنی، صاف توانائی، زرعی کاروبار، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اہم معدنیات کے شعبوں میں کینیڈین سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ و تحفظ کے معاہدے (ایف آئی پی اے) پر جاری مذاکرات کو بھی خوش آئند قرار دیا۔چیئرمین سینیٹ نے صحت، تعلیم اور سماجی ترقی کے شعبوں میں پاکستان کے لیے کینیڈا کے دیرینہ تعاون، خصوصاً زچہ و بچہ کی صحت اور پولیو کے خاتمے کے پروگراموں میں شراکت داری کو سراہتے ہوئے صحتِ عامہ، طبی تحقیق، زرعی جدت، موسمیاتی لحاظ سے موزوں زراعت، اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق اور تعلیمی تبادلوں میں مزید تعاون پر زور دیا۔
انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ تعلیمی شراکت داری، وظائف، ثقافتی تبادلوں، سیاحت کے فروغ اور جامعات، تحقیقی اداروں اور تھنک ٹینکس کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ملاقات کے دوران چیئرمین سینیٹ نے مسئلہ جموں و کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے، جس کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن طریقے سے ہونا چاہیے۔
علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دیرپا امن اور استحکام کے لیے مکالمہ، اعتماد سازی اور سفارتی ذرائع ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے پاکستان کے اس غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا کہ کینیڈا کے ساتھ پارلیمانی تعاون، اقتصادی روابط، تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ وزیر خارجہ انیتا آنند کا یہ دورہ پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا اور دونوں ممالک کے عوام کے لیے مشترکہ امن، خوشحالی اور پائیدار ترقی کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔







