اسلام آباد ۔ 06 جون (اے پی پی) چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے فاٹا اور پاٹا کی بزنس کمیونٹی کی ایک وفد نے پارلیمنٹ ہاو¿س میں ملاقات کی اور حال ہی میں پارلیمان سے منظور ہونے والی آئینی ترمیم سے فاٹا اور پاٹا کی تجارت اور بزنس کمیونٹی کو ممکنہ طور پرپیش آنےوالے مسائل اوراقتصادی رابطہ کونسل کی سفارشات پر اپنے تحفظات سے تفصیلی طورپر آگاہ کیا۔ سینیٹ سیکرٹریٹ …
چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے فاٹا اور پاٹا کی بزنس کمیونٹی کے وفد کی ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 06 جون (اے پی پی) چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے فاٹا اور پاٹا کی بزنس کمیونٹی کی ایک وفد نے پارلیمنٹ ہاو¿س میں ملاقات کی اور حال ہی میں پارلیمان سے منظور ہونے والی آئینی ترمیم سے فاٹا اور پاٹا کی تجارت اور بزنس کمیونٹی کو ممکنہ طور پرپیش آنےوالے مسائل اوراقتصادی رابطہ کونسل کی سفارشات پر اپنے تحفظات سے تفصیلی طورپر آگاہ کیا۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق بزنس کمیونٹی کے وفد نے چیئرمین سینیٹ کو بتایا کہ فاٹا میں دہشتگردی اور انتہاپسندی کے باعث تباہی سب کے سامنے ہے ، وہاں نہ تو لوگوں کا گھر بار بچا ہے اور نہ ہی کاروبار ۔ آئین میں جو ترمیم لائی گئی اس کے تحت آرٹیکل 247کی شق (3)ختم ہونے سے ٹیکسوں کے نظام کا دائرہ کار فاٹا تک وسیع ہوگیااور آرٹیکل 246کے تحت دیا گیا سپیشل سٹیٹس بھی ختم ہوگیا اگرچہ 5سال کے لیے ٹیکس سے استثنیٰ دیا گیا ہے تاہم یہ ناکافی ہے اور اس کی وجہ سے اور اب اس آئینی ترمیم کے تحت اقتصادی رابطہ کونسل نے جن سفارشات کی منظوری دی ہے انہیں ایف بی آر سے ایس آر او کے ذریعے لاگو کروایا جائے گا جس سے فاٹا کے عوام اور تاجر برادری میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے ۔








