اسلام آباد ۔ 18 فروری (اے پی پی) چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ بھاری سعودی سرمایہ کاری بین الاقوامی برادری کے پاکستان پر بھر پور اعتماد کی عکاس ہے، اس سرمایہ کاری سے باہمی تعاون اور شراکت داری کے ساتھ ساتھ علاقائی ترقی کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین سینیٹ نے ایوان بالا کے وفد کی قیادت کرتے ہوئے پاکستان کے …
چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی ایوان بالا کے وفد کے ہمراہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18 فروری (اے پی پی) چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ بھاری سعودی سرمایہ کاری بین الاقوامی برادری کے پاکستان پر بھر پور اعتماد کی عکاس ہے، اس سرمایہ کاری سے باہمی تعاون اور شراکت داری کے ساتھ ساتھ علاقائی ترقی کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین سینیٹ نے ایوان بالا کے وفد کی قیادت کرتے ہوئے پاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹ کے وفد میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز، قائد حزب اختلاف سینیٹر راجہ محمد ظفر الحق، سینیٹر مشاہداللہ خان ، سینٹر محمد اعظم خان سواتی اور سینیٹر اورنگ زیب خان اورکزئی شامل تھے۔ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ سعودی عرب کا ویژن 2030ء امن ، معاشی ترقی اور خوشحالی کا ویژن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عوام خوش قسمت ہیں کہ انہیں خادم الحرمین الشریفین کی طرح کی قیادت اور شہزادہ سلمان بن محمد جیسا ولی عہد ملا۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حالات تبدیل ہوگئے ہیں اور ملک میں سرمایہ کاری اور تجارت کی فضا انتہاء سازگار ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے سعودی سرمایہ کاری کو بین الاقوامی برادری کا اعتماد قرار دیا اور کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ صادق سنجرانی نے کہا سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی مشکل وقت میں مدد کی ہے اور یہ دوستی وقت کے ہر امتحان پر پورا اتری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک بہت سے سیاسی اور سکیورٹی معاملات پر ایک جیسا نقطہ نظر رکھتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف کثیر الجہتی فورمز پر بھی مثالی تعاون پایا جاتا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں تاجروں اور سرمایہ کاروں کی وفدکے ساتھ آمد اس کی ایک مثال ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے سعودی ویژن 2030ء کو مزید تقویت ملے گی۔ چیئرمین سینٹ نے دوطرفہ تجارتی تعاون، مشترکہ بزنس کونسل کو متحرک کرنے اور کاروباری نمائشوں میں شرکت کو فروغ دینے کی بھی تجویز دی۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد روزگار کے لئے قیام پذیر ہے اور یہ کمیونٹی دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اس دورے کے پاکستان اور سعودی عرب کے لئے مثبت نتائج سامنے آئیں گے، دورے سے دونوں ممالک میں ایک نئی اقتصادی شراکت داری کا آغاز ہوگا اور تعلقات کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوگا۔








