اسلام آباد ۔ 07 مارچ (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب قوم کے اربوں روپے لوٹ کر بیرون ملک جانے والے بدعنوان عناصر کو وطن واپس لا کر ان سے قوم کی لوٹی ہوئی رقم برآمد کرنے اور ان کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کےلئے انتہائی سنجیدہ کاوشیں کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار چئیرمین نیب …
چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کا نیب کے آپریشن اور پراسیکیوشن ڈویژنز کے افسران اور اہلکاران سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 07 مارچ (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب قوم کے اربوں روپے لوٹ کر بیرون ملک جانے والے بدعنوان عناصر کو وطن واپس لا کر ان سے قوم کی لوٹی ہوئی رقم برآمد کرنے اور ان کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کےلئے انتہائی سنجیدہ کاوشیں کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار چئیرمین نیب نے نیب ہیڈکوارٹرز میں نیب کے آپریشن اور پراسیکیوشن ڈویژنز کے افسران اور اہلکاران سے خطاب کرتے ہوئے کےا۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ بدعنوانی دیمک کی طرح ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، نیب نے ملک سے بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے انسداد بدعنوانی کی مو¿ثر حکمت عملی ”نیب کاایمان -کرپشن فری پاکستان“ وضع کی ہے کیونکہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ انہوں نے نیب کے تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ دیانتداری، ایمانداری، محنت، لگن، شفافیت، میرٹ، ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق اپنی قومی ذمہ داریاں سرانجام دیں۔ نیب کسی دباﺅ کو خاطر میں لائے بغیر بدعنوان عناصر کے خلاف قانون کے مطابق ملک بھر میں اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ نیب پر اعتماد کی وجہ سے ہی نیب کو گزشتہ13 ماہ کے دوران 54344 شکایات موصول ہوئیں جن کا قانون کے مطابق مکمل جائزہ لیا گیا اور مکمل سکروٹنی کے بعد 2125 شکایات کی جانچ پڑتال، 1059 انکوائریاں اور 302 انویسٹی گیشنز کی منظوری دی گئی جبکہ 590بدعنوانی کے ریفرنس مختلف معزز احتساب عدالتوں میں دائر کئے گئے جو کہ اس وقت زیر سماعت ہیں۔ نیب نے 561 فراد کو گرفتار کرکے گزشتہ 13 ماہ میں ان سے قوم کے لوٹے گئے تقریباً 3919.011 ملین روپے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے۔ نیب کی 2018ءمیں سزا دلوانے کی شرح 70.8 فیصد رہی جو کہ پاکستان میں انسداد بدعنوانی کے ادارے سے بہتر اور مثالی ہے۔ مزید برآں نیب کے اس وقت معزز احتسا ب عدالتوں میں1219 بدعنوانی کے ریفرنس زیر سماعت ہیں جن کی تقریباً مالیت 900 ارب روپے ہے۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نیب کے تمام علاقائی بیوروز کوہدایت جاری کی ہیں کہ پوری تیاری، ٹھوس شواہد اور قانون کے مطابق تمام مقدمات کی معزز عدالتوں میں نیب کے مقدمات کی پیروی کریں تاکہ میگا کرپشن کے تمام مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے علاوہ قوم کی لوٹی گئی رقم برآمد کرنے میں مدد مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ نیب غیر قانونی نجی ہاﺅسنگ سوسائٹیوں سے عوام کی زندگی بھر کی جمع پونجی واپس دلانے کےلئے نہ صرف کوشاںہے بلکہ نیب نے گزشتہ سال ہاﺅسنگ سوسائٹیوں سے تقریباً ایک ارب سے زائد رقوم ہاﺅسنگ سوسائٹیوںکے متاثرین میں تقسیم کیں جس پر انہوں نے نیب کا شکرےہ ادا کےا۔








