اسلام آباد ۔ یکم مارچ(اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے بدعنوانی کو کینسر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے خاتمے کے لئے ”احتساب سب کے لئے“ کی جامع پالیسی وضع کی گئی ہے۔ اس تناظر میں نیب کو 2018ءکے مقابلے میں 2019ءکے اس عرصہ کے دوران ملنے والی شکایات کی تعداد دوگنا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے اعداد و شمار کے …
چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نیب کی مجموعی کارکردگی سے متعلق جائزہ اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم مارچ(اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے بدعنوانی کو کینسر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے خاتمے کے لئے ”احتساب سب کے لئے“ کی جامع پالیسی وضع کی گئی ہے۔ اس تناظر میں نیب کو 2018ءکے مقابلے میں 2019ءکے اس عرصہ کے دوران ملنے والی شکایات کی تعداد دوگنا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے اعداد و شمار کے تقابلی جائزہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیب افسران محنت، عزم اور جذبے کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور بدعنوانی کے خاتمے کو قومی فرض سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب ہیڈ کوارٹرز میں نیب کی مجموعی کارکردگی سے متعلق جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیب ہر قسم کی بدعنوانی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے لئے پرعزم ہے۔ نیب نے اسلام آباد میں فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیہ کی سہولت موجود ہے جس سے انکوائری اور انوسٹی گیشن کی تحقیقات کے دوران نتائج کو بہتر بنانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب نے شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائری، انوسٹی گیشن اور احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کے لئے مخصوص مدت مقرر کی ہے۔ نیب نے گزشتہ ایک سال کے دوران ملک بھر کی احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے 590 ریفرنس دائر کئے ہیں جو کہ نمایاں کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے سینئر سپروائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے۔ کمبائنڈ انوسٹی گیشن ٹیم ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انوسٹی گیشن آفیسر اور سینئر لیگل قونصل پر مشتمل ہے جس سے کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممتاز قومی اور بین الاقوامی تنظیموں نے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے نیب کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔ نیب نے گزشتہ ایک سال کے دوران نہ صرف 569 ملزموں کو گرفتار کیا ہے بلکہ 3900 ملین روپے بدعنوان عناصر سے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی موجودہ انتظامیہ نے ادارے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لئے جامع مقداری گریڈنگ نظام وضع کیا ہے۔ نیب نے کارکردگی کے جائزہ کے لئے جدید مانیٹرنگ اینڈ ایولیوایشن کا نظام وضع کیا ہے جس سے نیب کی آپریشنل، مانیٹرنگ اور جائزہ کی صلاحیتوں میں اضافہ میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک بھر کی احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے 1210 مقدمات زیر سماعت ہیں جن کی مالیت تقریباً 900 ارب روپے بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے سی پیک کے منصوبوں کے تناظر میں انسداد بدعنوانی کے شعبوں میں تعاون کے لئے چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد سازی میں اضافہ ہوگا۔ نیب ملک کا واحد ادارہ ہے جس کے مقدمات میں سزا کی شرح تقریباً 70 فیصد ہے۔ یہ کامیابی نیب کی جامع انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی کے باعث حاصل ہوئی ہے جس پر موجودہ انتظامیہ کے دور میں بلا امتیاز عمل کیا جا رہا ہے۔








