چیئرمین واپڈا کا دیامربھاشا ڈیم اور داسو ہائیڈروپاور پراجیکٹ کا دورہ، منصوبوں پر تعمیراتی پیش رفت کا جائزہ

اسلام آباد۔15فروری (اے پی پی):چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر)محمد سعید نے زیر تعمیر دیامر بھاشا ڈیم اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا دورہ کیا اور دونوں منصوبوں پر تعمیراتی پیشرفت کا جائزہ لیا۔ پراجیکٹ حکام کی جانب سے بریفنگ کے دوران انہیں بتایا گیا کہ دونوں منصوبوں کے مین ڈیمز پر رولر کمپیکٹڈ کنکریٹ (آر سی سی) ورکس اسی سال شروع ہو جائے گا۔دورے کے دوران چیئرمین واپڈا نےدونوں پراجیکٹس …

اسلام آباد۔15فروری (اے پی پی):چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر)محمد سعید نے زیر تعمیر دیامر بھاشا ڈیم اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا دورہ کیا اور دونوں منصوبوں پر تعمیراتی پیشرفت کا جائزہ لیا۔ پراجیکٹ حکام کی جانب سے بریفنگ کے دوران انہیں بتایا گیا کہ دونوں منصوبوں کے مین ڈیمز پر رولر کمپیکٹڈ کنکریٹ (آر سی سی) ورکس اسی سال شروع ہو جائے گا۔دورے کے دوران چیئرمین واپڈا نےدونوں پراجیکٹس کے جنرل منیجرز، کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کو ہدایت کی کہ وہ وضع کئے گئے تعمیراتی پلان پر عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے کام میں تیزی لائیں تاکہ پاکستان کی واٹر، فوڈ اور انرجی سکیورٹی کیلئے انتہائی اہم ان منصوبوں کو شیڈول کے مطابق مکمل کیا جا سکے۔

پہلے مرحلے میں چیئرمین نے دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کا تفصیلی دورہ کیا جو چلاس شہر سے 40 کلومیٹر زیریں جانب دریائے سندھ پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے پراجیکٹ کی اہم سائٹس پر تعمیراتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا، جن میں پاور انٹیک، ڈیم فاؤنڈیشن، مین ڈیم کی تعمیر کیلئے کھدائی کئے گئے بائیں کنارے، ڈاؤن سٹریم کوفر ڈیم، فلشنگ ٹنل، گائیڈ وال، آر سی سی بیچنگ پلانٹ اور لیبارٹری شامل ہیں۔جنرل منیجر نے کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کے ہمراہ چیئرمین کو تمام سائٹس پر اہداف اور پیشرفت بارے آگاہ کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ اس وقت پراجیکٹ کی 20 سائٹس پر تعمیراتی کام جاری ہے۔

ڈیم فاؤنڈیشن اور بائیں کنارے کی کھدائی تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ مین ڈیم کے لیے آر سی سی ٹرائلز بھی کامیابی کے ساتھ مکمل کیے جا چکے ہیں۔ دائیں کنارے کی کھدائی مکمل ہونے پر مین ڈیم کے لیے آر سی سی ورکس رواں سال شروع ہو جائیں گے۔ ڈیم کی تکمیل 2030 میں متوقع ہے۔چیئرمین واپڈا نے دورے کے دوران مقامی علماء سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں مقامی لوگوں کی ترقی کیلئے اعتماد سازی کے اقدامات پر پیشرفت بارے گفتگو کی گئی۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ واپڈا پراجیکٹ ایریا میں لوگوں کی معاشرتی اوراقتصادی ترقی پر خطیر رقم خرچ کر رہا ہے۔ کیڈٹ کالج چلاس مکمل ہو چکا ہے۔

ہرپن داس ماڈل ولیج پر پیش رفت تقریباً 61 فیصد ہے، جبکہ پلاٹوں کو ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی تعمیر، واٹر سپلائی اور سیوریج سسٹم کے اضافی کام بھی جاری ہیں۔ اس کے علاوہ چلاس ٹاؤن میں واٹر سپلائی سکیم کا کنٹریکٹ بھی ایوارڈ کیا جاچکا ہے، جبکہ اپر کوہستان کی تحصیل شتیال میں رورل ہیلتھ سنٹر کی تعمیر بڈنگ کے مرحلے میں ہے۔دیامر بھاشا ڈیم میں 81 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا، جس کی بدولت ملک بھر میں 12 لاکھ ایکڑ مزید اراضی زیر کاشت آئے گی۔ساڑھے 4 ہزار میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے ساتھ دیامر بھاشا ڈیم نیشنل گرڈ کو ہر سال 18 ارب یونٹ کم لاگت اور ماحول دوست بجلی فراہم کرے گا۔ دورے کےدوسرے مرحلے میں چیئرمین واپڈا داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پہنچے، جو خیبر پختونخوا کے ضلع اپر کوہستان میں دریائے سندھ پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔

انہوں نےپراجیکٹ کی تمام اہم سائٹس کا تفصیلی دورہ کیا، جن میں ڈیم فاؤنڈیشن، زیر زمین پاور ہاؤس اور زیر زمین ٹرانسفارمرز ہال شامل ہیں۔ جنرل منیجر نے پیشرفت بارے چیئرمین کو بتایا کہ پراجیکٹ کی 23 سائٹس پر تعمیراتی کام بیک وقت جاری ہے۔ کرشنگ اور بیچنگ پلانٹس مکمل ہو چکے ہیں۔ مین ڈیم کے لیے آر سی سی ورکس اسی سال شروع ہو جائیں گے۔ مین ڈیم کی تعمیر کے دوران بجلی کی مستحکم سپلائی کیلئے 132 کےوی ٹرانسمیشن لائن ٹیسٹنگ اور کمیشننگ کے آخری مرحلے میں ہے اور اسے چند دنوں میں فعال کر دیا جائے گا۔ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے بجلی کی پیداوار 2028 میں شروع ہو جائے گی۔ چیئرمین کو بتایا گیا کہ سی پیک معیار کے مطابق ساڑھے 20 کلومیٹر طویل نئی تعمیر کی جارہی متبادل شاہراہ قراقرم بھی رواں سال مکمل ہو جائے گی۔

چیئرمین کو واپڈا کی جانب سے مقامی لوگوں کو سماجی اور اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کیلئے اعتماد سازی کے اقدامات کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ لوکل رورل ایریا ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت اب تک انفراسٹرکچر، صحت عامہ اور تعلیم کی 31 ترقیاتی سکیمیں مکمل ہو چکی ہیں، جبکہ باقی سکیموں پر بھی کام جاری ہے۔

چیئرمین نے داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے 132 کے وی گرڈ سٹیشن کا بھی افتتاح کیا۔ 4 ہزار 320 میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو دو مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔ اس وقت واپڈا 2 ہزار 160 میگاواٹ پر مشتمل پراجیکٹ کا پہلا مرحلہ تعمیر کر رہا ہے، جس کی تکمیل پر نیشنل گرڈ کو سالانہ 12 ارب یونٹ سستی اور ماحول دوست بجلی فراہم ہوگی۔