اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی) پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین شہریار خان آفریدی نے بدھ کو بھارتی غیر قانونی مقبوضہ کشمیر میں بننے والے انسانی بحران کے خلاف دنیا کو متنبہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر کشمیر میں محصور کووڈ۔19 متاثرین کے لئے ایک انسانی ہمدردی کی راہداری بنانے کے لئے کام شروع کرے۔ چیئرمین کشمیر کمیٹی نے …
چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی کا عالمی یوم انسانیت کے موقع پرسیمنیار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی) پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین شہریار خان آفریدی نے بدھ کو بھارتی غیر قانونی مقبوضہ کشمیر میں بننے والے انسانی بحران کے خلاف دنیا کو متنبہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر کشمیر میں محصور کووڈ۔19 متاثرین کے لئے ایک انسانی ہمدردی کی راہداری بنانے کے لئے کام شروع کرے۔ چیئرمین کشمیر کمیٹی نے ان خیالات کا اظہار عالمی یوم انسانیت کے موقع پر پارلیمنٹ ہاو¿س میں منعقدہ سیمینار کے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کشمیر کمیٹی کے زیراہتمام سیمینار کا عنوان ”کورونا وائرس کے زیر سایہ کشمیر میں سسکتی انسانیت“ تھا۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ 5 اگست 2019ءسے مقبوضہ کشمیر کے عوام دوہرے لاک ڈاو¿ن کی زد میں ہیں اور کووڈ۔19 پھیلنے کے باوجود قابض حکومت کشمیریوں کو دوائیں اور دیگر سہولیات نہیں دے رہی۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ عالمی برادری کو آگے آکر بھارتی غیر قانونی مقبوضہ کشمیر میں انسانی ہمدردی کی راہداری تشکیل دینا چاہئے جس کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو امداد فراہم کی جاسکے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) اور انٹرنیشنل کمیٹی برائے ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کو ساتھی تنظیموں کے ساتھ مل کر سری نگر میں قائم اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ سے بات چیت کرکے کشمیریوں کے لئے اس راہداری کی تعمیر میں مدد کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کووڈ۔19 وبائی بیماری کے نتیجہ میں بے حد تکلیف کا شکار ہوگئی ہے ، حکومتوں اور ڈبلیو ایچ او نے اس مرض سے بڑے پیمانے پر لوگوں کی مدد کے لئے مل کر کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پاکستان ایک کامیاب ترین قوم کی حیثیت سے ابھرا ہے جس نے وزیراعظم عمران خان کے وژن کے تحت وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لئے ایک جامع حکمت عملی تیار کی تھی۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ وزیر اعظم خان کے غریب اور مسکینوں کے بارے میں ہمدردانہ پالیسیوں کے تحت حکومت پاکستان نے احساس کیش پروگرام کے تحت غریبوں کی مدد کی جبکہ ڈاکٹروں ، پیرامیڈکس اور صحت کے کارکنوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ لوگوں کو جب اور جہاں ضرورت ہو وہاں امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا ، "یہ دیکھنا بدقسمتی ہے کہ ہندوستان میں سرحد کے اس پار کیا ہورہا ہے جہاں دنیا نے وبائی بیماریوں کی بدترین ہینڈلنگ دیکھی اور ہندوستانی حکومت کی طرف سے اختیار کی گئی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے ہندوستان کے عوام کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی غیرقانونی طور پر مقبوضہ کشمیر ایک ایسی جگہ ہے جہاں 5 اگست 2019ءسے لاعلمی اور ناگوار ردعمل لوگوں کو غیر مو¿ثر انداز میں پہنچا، دوائیں نہیں ہیں ، پیرامیڈک کی قلت ہے اور بین الاقوامی اور حکومت کی مدد کا فقدان ہے، کوویڈ 19 تیزی سے پھیل رہا ہے اور کشمیر میں انسانیت سوز صورتحال خراب ہو رہی ہے۔ جاری غیر معینہ فوجی محاصرے کی وجہ سے کشمیر کو معاشی ، معاشرتی اور انسانیت سوز بحران کا سامنا ہے۔ شہریار آفریدی نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مداخلت کریں اور کشمیریوں کو دوائیاں اور کوویڈ 19 سے متعلق مواد فراہم کریں ، انہوں نے کہا کہ پاکستان وبائی مرض میں مبتلا کشمیریوں کو کووڈ 19 سے متعلقہ مواد اور مدد فراہم کرنا چاہے گا۔








