چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل جاوید سلیم قریشی کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کو بریفنگ

اسلام آباد ۔ 28 جنوری (اے پی پی) پاکستان انجینئرنگ کونسل کے چیئرمین جاوید سلیم قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان میں انجینئرنگ کی تعلیم عالمی طور پر تسلیم شدہ ہے، بیرون ملک روزگار حاصل کرنے کے لئے انجینئرز کا پرویشنل ٹیسٹ لیا جائے گا۔ منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس چیئرمین ساجد مہدی کی زیر صدارت انجینئرنگ کونسل میں ہوا۔ جس میں …

اسلام آباد ۔ 28 جنوری (اے پی پی) پاکستان انجینئرنگ کونسل کے چیئرمین جاوید سلیم قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان میں انجینئرنگ کی تعلیم عالمی طور پر تسلیم شدہ ہے، بیرون ملک روزگار حاصل کرنے کے لئے انجینئرز کا پرویشنل ٹیسٹ لیا جائے گا۔ منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس چیئرمین ساجد مہدی کی زیر صدارت انجینئرنگ کونسل میں ہوا۔ جس میں چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) جاوید سلیم قریشی نے کمیٹی کو بتایا کہ کونسل کا کام پاکستان کے انجینئرز کو رجسٹرڈ اور شعبے کو ریگولیٹ کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ کونسل حکومت پاکستان کو تکنیکی امور پر رائے بھی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری انجینئرنگ کی تعلیم عالمی طور پر تسلیم شدہ ہے اور واشنگٹن ایکارڈ کے بعد انجینئرنگ کی تعلیم کو عالمی طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک جانے پر انجینئرز کو ملازمتوں کے لئے مزید کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، پاکستانی انجینئرز سے انٹرنیشنل پرویشنل انجینئرز کا ٹیسٹ لیا جائے گا۔ ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد پاکستانی انجینئرز بڑے عالمی اداروں میں ملازمت حاصل کر سکیں گے، اضافی طلباءکو داخلہ دینے پر یونیورسٹی کو فی طالب علم پانچ لاکھ فی سمسٹر جرمانہ کیا گیا ہے۔ انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں طلباءکی انرولمنٹ کے لئے بائیو میٹرک نظام نافذ بھی کر رہے ہیں۔ چیئرمین جاوید سلیم قریشی نے کمیٹی کو بتایا کہ کامیاب جوان پروگرام میں انجینئرز کے لئے انٹرنشپ کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک میں انجینئرز اور مزدور بھی چین سے لائے جا رہے ہیں، بیرون ملک سے آنے والی کمپنیاں 70 فیصد پاکستانی انجینئرز رکھنے کی پابند ہیں۔ چیئرمین نے کہا کہ واپڈا کی تباہی کی وجہ نان انجینئرز کی تعیناتی ہے، زراعت میں بھی تباہی کی بڑی وجہ بھی واپڈا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل نے حکومت کو خط لکھا ہے کہ انجینئرنگ کونسل کی سفارش پر ایس آر او جاری کیا گیا، اس قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ جس پر خواجہ سعد رفیق نے وفاقی وزیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس پر عملدرآمد کو یقینی بنوائیں۔ ممبر قائمہ کمیٹی انجینئر عثمان خان تراکئی نے اس موقع پر کہا کہ ملک میں بیروزگار انجینئرز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، کمپنیاں انجینئرز کا استحصال کر رہی ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کی کہ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی انجینئرز کو کونسل کے الیکشن میں ووٹ کا حق بھی دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں اس وقت دو لاکھ 70 ہزار انجینئرز موجود ہیں۔