اسلام آباد۔21اگست (اے پی پی):چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے ضلع بونیر اور سوات کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ۔ جمعرات کو جاری پریس ریلیز کے مطابق سینیٹر روبینہ خالد نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور شہداء کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی۔ سینیٹر روبینہ خالد نے متاثرہ خاندانوں کو بی آئی ایس پی کی مکمل حمایت اور مدد کی …
چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد کا ضلع بونیر اور سوات کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔21اگست (اے پی پی):چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے ضلع بونیر اور سوات کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ۔ جمعرات کو جاری پریس ریلیز کے مطابق سینیٹر روبینہ خالد نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور شہداء کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی۔ سینیٹر روبینہ خالد نے متاثرہ خاندانوں کو بی آئی ایس پی کی مکمل حمایت اور مدد کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے بی آئی ایس پی عہدیداروں کو ہدایت دی کہ متاثرہ خاندانوں کی تفصیلات فوری طور پر جمع کریں تا کہ امدادی پیکج میں شمولیت کی جائے۔ سینیٹر روبینہ خالد نے پیر بابا کے مزار اور مقامی گوردوارے کا بھی دورہ کیا اور سکھ برادری سے اظہار یکجہتی کیا اور مقامی لوگوں کو ماحولیاتی آلودگی کے خطرات سے بھی آگاہ کیا۔اپنے دورے کے دوران انہوں نے پریس کلب سوات کا دورہ بھی کیا جہاں بی آئی ایس پی کی جانب سے موبائل رجسٹریشن وہیکل (ایم آر وی) تعینات کی گئی تھی۔ سینیٹر روبینہ خالد نے خواتین کے سروے اور رجسٹریشن کے عمل کی خود نگرانی کی۔ اس کے ساتھ ہی میڈیکل کیمپ کا بھی معائنہ کیا اور وہاں موجود ڈاکٹروں اور رضاکاروں سے ملاقات کی، مخیر حضرات اور صاحب استطاعت افراد سے آگے بڑھ کر سیلاب متاثرین کی زیادہ سے زیادہ مدد کی اپیل بھی کی ۔چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے ڈسٹرکٹ بونیر کے ان تمام علاقوں کا دورہ کیا جو حالیہ سیلاب سے شدید متاثر ہوئے۔
ان علاقوں میں پٹےدرہ اور قادر نگر بھی شامل ہیں، جہاں ایک ہی خاندان کے 26 افراد شادی کی تقریب کیلئے جمع تھے اور اچانک آنے والی آفت کے باعث جاں بحق ہوگئے۔ دورے کے دوران روبینہ خالد نے جنید نامی نوجوان سے ملاقات کی جس کے گھر کے سات افراد جن میں والدہ، بھابھی، دو بھتیجے اور دو بہنیں شامل تھیں، یہ سب کے سب اس سانحے میں جان کی بازی ہار گئے۔ جنید کی والدہ بی آئی ایس پی کی مستحق خاتون تھیں۔ اس موقع پر چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے ڈی جی خیبرپختونخوا کو فوری طور پر ہدایت دی کہ ان کی تمام تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ کسی خصوصی پیکج کے تحت ان کی مدد ممکن بنائی جا سکے۔بعد ازاں چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے گو کند علاقے کا بھی دورہ کیا اور لواحقین کے ساتھ فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر انہوں نے ایک نابینا بزرگ سے ملاقات کی جن کے آٹھ سے نو قریبی رشتہ دار اس سانحے میں جاں بحق ہوگئے اور اب ان کے پاس صرف دو معصوم بچے رہ گئے ہیں۔ سینیٹر روبینہ خالد نے ذاتی حیثیت میں بھی متاثرہ خاندان کی مالی معاونت کی۔چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے پیر بابا مزار کا دورہ بھی کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس علاقے کی تباہی الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں کیونکہ پورا شہر اور مزار مکمل طور پر پانی میں ڈوبا ہوا تھا۔ اسی طرح انہوں نے ایک مقامی گردوارے میں بھی حاضری دی، سکھ کمیونٹی کے ارکان سے ملاقات کی اور ان کے غم میں شریک ہوئیں۔ انہوں نے متاثرہ برادری سے تعزیت کر کے ان کے دکھ کو کم کرنے کی کوشش کی۔چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے آفت زدہ علاقوں میں موجود ریسکیو ٹیموں اور این جی اوز سے اپیل کی کہ وہ مزید فعال کردار ادا کریں اور متاثرین کی امداد میں بھرپور حصہ ڈالیں۔
سینیٹر روبینہ خالد نے ہدایت کی کہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کے دوران کسی قسم کی نمود و نمائش سے اجتناب کیا جائے اور ان کی عزتِ نفس کو ہر صورت ملحوظ خاطر رکھا جائے۔مقامی افراد نے چیئرپرسن بی آئی ایس پی کو تقریباً 100 جاں بحق ہونے والے افراد کی فہرست بھی فراہم کی جس پر انہوں نے فوری طور پر ڈیٹا کی تصدیق کرنے اور آئندہ ریلیف پیکجز میں ان متاثرین کو شامل کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ پلاسٹک بیگز اور بوتلیں ماحول میں تحلیل نہیں ہوتیں اور یہ بتدریج ماحولیاتی تبدیلی میں اضافہ کرتی ہیں۔ اس پیغام کو اجاگر کرنے کے لیے انہوں نے خود بھی صفائی مہم میں حصہ لیا اور پلاسٹک کا فضلہ ایک جگہ جمع کیا۔ ان کے اس عمل کو دیکھتے ہوئے مقامی افراد اور بی آئی ایس پی ٹیم نے بھی اس مہم میں بھرپور شمولیت اختیار کی۔ چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ ہمیں نہ صرف موجودہ آفات کا سامنا کرنا ہے بلکہ مستقبل کی نسلوں کے لیے ایسا ماحول تشکیل دینا ہے جہاں وہ محفوظ اور صحت مند زندگی گزار سکیں۔سینیٹر روبینہ خالد نے میڈیکل کیمپس کا دورہ کیا اور وہاں موجود ڈاکٹروں اور رضاکاروں سے ملاقات کی۔ انہیں ادویات فراہم کیں اور ان کی خدمات کو سراہا۔چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے کہا کہ ہم ہر مشکل گھڑی میں متاثرین کے ساتھ ہیں۔ اپنے تین روزہ دورے کے دوران وہ ان تمام مقامات پر گئیں جہاں کلائوڈ برسٹ سے نقصانات ہوئے تھے، متاثرہ خاندانوں سے ملیں اور ان کے دکھ بانٹے۔ سوات شہر میں بھی انہوں نے متاثرہ گھروں کا دورہ کیا اور ان خاندانوں کو حوصلہ دیا کہ بی آئی ایس پی ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔








