اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی) روس کی جانب سے پاکستانی عزم اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی گئی قربانیوں کے اعتراف میں پاکستان روس کے کردار کو سراہتا ہے، روس کا پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ”ڈو مور“ کا مطالبہ نہ کرنے کا تعاون قابل تعریف ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر مملکت و چیئرپرسن بی آئی ایس پی ایم این …
چیئرپرسن بی آئی ایس پی ماروی میمن کی پاکستان روس فیڈریشن پارلیمنٹری فرینڈ شپ گروپ اور روسی پالیمنٹری وفد سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی) روس کی جانب سے پاکستانی عزم اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی گئی قربانیوں کے اعتراف میں پاکستان روس کے کردار کو سراہتا ہے، روس کا پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ”ڈو مور“ کا مطالبہ نہ کرنے کا تعاون قابل تعریف ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر مملکت و چیئرپرسن بی آئی ایس پی ایم این اے ماروی میمن نے منگل کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں پاکستان روس فیڈریشن پارلیمنٹری فرینڈ شپ گروپ (پی ایف جی) اور روسی پالیمنٹری وفد کے مابین ملاقات کے دوران کیا۔ روس پالیمنٹری وفد کی سربراہی ویسلے آئی پیسکریو نے کی۔ دیگر ممبران میں دمتری سیولیو، سرجے وی ایلنکن اور ویلرے وی فدیو شامل تھے۔پی ایف جی میں عامرہ خان، شہریار خان آفریدی، مسرت احمد زیب، شکیلہ لقمان اور شیخ صلاح الدین شامل تھے۔ ملاقات کے دوران دونوں جانب سے علاقی امن و امان، انسداد دہشت گردی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات، توانائی، دفاع، جوہری توانائی کے پُرامن استعمال، پارلیمانی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ویسلے آئی پیسکریو نے کہا کہ روس کا مقصد پاکستان کیساتھ قریبی تعلقات کو استوار کرنا ہے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ کرتے ہوئے اس کا خاتمہ کرنا اسلام آباد اور ماسکو کے مشترکہ مقاصد میں شامل ہے۔








