اسلام آباد ۔ 8 ستمبر (اے پی پی) قومی کمیشن برائے انسانی ترقی (این سی ایچ ڈی) کی چیئرپرسن سابق سینیٹر رزینہ عالم خان نے کہا ہے تعلیم کسی بھی فرد کی زندگی کا اہم جزو ہے اور آج کی ڈیجیٹل دنیا میں اختیار، ترقی اور بھرپور زندگی کی ضرورت ہے، خواندگی کا مطلب محض پڑھنا اور لکھنا نہیں، ہمیں خود کو ڈیجیٹل سوسائیٹیز سے ہم آہنگ بھی کرنا ہے۔ …
چیئرپرسن قومی کمیشن برائے انسانی ترقی رزینہ عالم خان کا خواندگی کے عالمی دن کے موقع پر سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 8 ستمبر (اے پی پی) قومی کمیشن برائے انسانی ترقی (این سی ایچ ڈی) کی چیئرپرسن سابق سینیٹر رزینہ عالم خان نے کہا ہے تعلیم کسی بھی فرد کی زندگی کا اہم جزو ہے اور آج کی ڈیجیٹل دنیا میں اختیار، ترقی اور بھرپور زندگی کی ضرورت ہے، خواندگی کا مطلب محض پڑھنا اور لکھنا نہیں، ہمیں خود کو ڈیجیٹل سوسائیٹیز سے ہم آہنگ بھی کرنا ہے۔ وہ خواندگی کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ ایک سیمنار سے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیمنار آج کی ڈیجیٹل دنیا کے مواقع کے حوالے سے موثر تعلیمی پالیسیاں اور پروگرام ترتیب دینے کے سلسلے میں اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اور ہمیشہ سے دہشت گردی، عدم مساوات، صنفی امتیاز، غربت، سماجی ناانصافی، نسلی و لسانی نقصانات اور جغرافیائی علاقوں میں فرق پر قابو پانے کا بہترین طریقہ کار تعلیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو مفت اور لازمی بنیادی تعلیم فراہم کرنا ریاست کے ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی ٹیکنالوجی کی دنیا میں زندگی گزارنے، کام کرنے، سیکھنے اور سماجیات میں آنے والی تبدیلیوں سے زندگی کے تمام شعبوں کو بہتر بنانے کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب صرف پڑھنے لکھنے سے سوسائٹی کے ضروریات پوری نہیں ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ پڑھا لکھا معاشرہ ہی ہماری سماجی، اقتصادی اور سیاسی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم 20 کروڑ 70 لاکھ آبادی کا معاشرہ ہیں اور ہمارے 5 سے 16 سال کی عمر کے 44 فیصد بچے سکولوں میں نہیں جاتے۔ 2 کروڑ 60 لاکھ درج بچوں میں سے صرف 32 فیصد میٹرک کی سطح تک تعلیم حاصل کر پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پرائمری کی سطح پر خالص داخلہ 77 فیصد جبکہ اس میں سے سکول چھوڑنے کی شرح 32 فیصد ہے۔ لڑکوں کے 40 فیصد کے مقابلے میں بچیاں 49 فیصد سکولوں سے باہر ہیں۔ این سی ایچ ڈی کو پلاننگ کمیشن کی طرف سے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان، فاٹا اور آزاد کشمیر میں وژن 2025ءاور ایس ڈی جی فور کے تحت قومی ایکشن پلان تشکیل دے۔








