چیئرپرسن کشور زہرہ کی صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس ،کراچی میں طیارہ حادثہ کی وجوہات جاننے کے لئے غیر جانبدار تحقیقات کی ہدایت

اسلام آباد ۔ 18 اگست (اے پی پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے کراچی میں طیارہ حادثہ کی وجوہات جاننے کے لئے غیر جانبدار تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس منگل کو کمیٹی کی چیئرپرسن کشور زہرہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پی آئی اے کے 320۔اے طیارے کے حادثہ کی مکمل اور شفاف تحقیقات پر زور دیا گیا۔ کمیٹی نے …

اسلام آباد ۔ 18 اگست (اے پی پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے کراچی میں طیارہ حادثہ کی وجوہات جاننے کے لئے غیر جانبدار تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس منگل کو کمیٹی کی چیئرپرسن کشور زہرہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پی آئی اے کے 320۔اے طیارے کے حادثہ کی مکمل اور شفاف تحقیقات پر زور دیا گیا۔ کمیٹی نے 97 قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہری رنج و غم کا اظہار کیا۔ کمیٹی اراکین نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاز کی بہترین حالت اور پائلٹ کے تجربہ کار ہونے کے باوجود یہ واقعہ کیسے پیش آیا، لہٰذا اس کی وجوہات کی نشاندہی کی جانی چاہئے تاکہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایوی ایشن کے ماہرین، سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پی آئی اے کے نمائندوں، ایوی ایشن سائیکولوجسٹ اور بوئنگ کمپنی کے ماہرین سمیت 12 ممبروں پر مشتمل ایک تحقیقاتی ٹیم قائم کی گئی۔ اس تحقیقاتی کمیٹی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور طیارہ کے ملبہ کی جانچ پڑتال کے علاوہ کنٹرول ٹاور اور پائلٹوں کے مابین ہونے والی گفتگو اور بلیک باکس سے ملنے والی ریکارڈنگ کا جائزہ لیا۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ طیارہ فنی اعتبار سے بہترین حالت میں تھا، موسم بھی پرواز کے لئے سازگار تھا، پائلٹ اور معاون پائلٹ تجربہ کار تھے تاہم طے شدہ طریقہ کار سے پائلٹ اور ہوائی ٹریفک کنٹرولر کی طرف سے کافی انحراف سامنے آئے تھے۔ سیکرٹری ہوا بازی ڈویژن نے بتایا کہ اندوہناک واقعہ کی انکوائری 8 سے 10 ماہ میں مکمل ہوجائے گی اور رپورٹ کمیٹی کو پیش کر دی جائے گی۔ کمیٹی نے یورپ اور برطانیہ کے لئے پروازوں کی بندش کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان روٹس پر جانے والی پروازوں کی دوبارہ بحالی کے لئے یورپی اور برٹش ایئر حکام کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ پی آئی اے کے طیارے اور سفر کرنے والے مسافروں کے حفاظتی انتظام سے متعلق پانچ مختلف امور پر اعتراضات کے باعث یورپی مقامات اور برطانیہ جانے والی پروازیں بند کر دی گئی ہیں۔ پی آئی اے کے نمائندے نے بتایا کہ ان اعتراضات کو دور کر دیا گیا ہے تاہم یوروپین ایئر سیفٹی ایجنسی کی کلیئرنس پر پروازوں کو دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان جانے کا ارادہ رکھنے والے تارکین وطن اور دیگر غیر ملکی شہریوں کو درپیش سفری مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ، پی آئی اے کی جانب سے کوڈ شیئرنگ کی بنیاد پر متبادل انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پروازوں کی اجازت نہیں دی جاتی ہے اس وقت تک اتحاد ایئرلائن، ترک ایئر لائنز اور پیگاسس ایئر لائنز کے ساتھ کوڈ شیئرنگ کے تحت پروازیں چلائی جائیں گئی۔ کمیٹی نے پی آئی اے کے پائلٹوں کے جعلی لائسنس کیس پر بھی غور کیا۔ اراکین نے کہا کہ سی اے اے میں اب تک کسی بھی افسر کو جعلی لائسنس جاری کرنے پر قصور وار نہیں ٹھہرایا گیا۔ کمیٹی نے ایوی ایشن ڈویژن سے انکوائری مکمل کرنے کو کہا تاکہ ذمہ دار افراد کی نشاندہی کی جا سکے۔ فلائٹ عملے کے لائسنس کے اجراءمیں خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لئے بورڈ آف انکوائری تشکیل دیا گیا ہے اور بورڈ کے تحقیقات کی روشنی میں 28 لائسنسوں کو منسوخ، 38 لائسنسوں میں سے ڈیٹا کی تصدیق جبکہ 193 لائسنس معطل کردیئے گئے اور معاملہ مزید تفتیش کے لئے ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ سیکرٹری ایوی ایشن ڈویژن نے بتایا کہ سول ایوی ایشن نے 200 پاکستانی لائسنسوں کی تصدیق/منظوری دےدی ہے جن کے نام سول ایوی ایشن اتھارٹی آف سعودیہ، قطر، ترکی، ایتھوپیا، متحدہ عرب امارات، ویتنام، بحرین، ملائیشیا اور ہانگ کانگ سے موصول ہوئے تھے۔ کمیٹی کو سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ڈویژن کی تقسیم کے منصوبے کے بارے میں بھی بتایا گیا۔ سیکرٹری نے بتایا کہ اس وقت اتھارٹی ریگولیٹری اور خدمات فراہم کرنے والے کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے اور دو حصوں میں تقسیم کے منصوبے پر عملدرآمد کے بعد دو الگ الگ ادارے قائم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں قانون آنے والے 2 ماہ میں پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ کمیٹی کے اجلاس میں ایم این اے علی نواز اعوان، محمد اسلم خان، عظمیٰ ریاض، شہناز سلیم ملک، سیما محی الدین جمیلی، میر غلام علی تالپور، سیّد محمود شاہ، محسن داوڑ اور ایوی ایشن ڈویژن، ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس اور دیگر متعلقہ محکموں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

مزید خبریں