اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی):الیکشن کمیشن کا پنجا ب میں لوکل گورنمنٹ انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں اجلاس منگل کو ہوا جس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطا ن راجہ نے کی۔ اجلاس میں ممبران الیکشن کمیشن کے علاوہ سیکرٹری ا لیکشن کمیشن ، سپیشل سیکرٹری ، سپیشل سیکرٹری لاء اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے الیکشن کمیشن کو بریف کیا کہ …
چیف الیکشن کمشنر کی زیرصدارت الیکشن کمیشن کا پنجا ب میں لوکل گورنمنٹ انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی):الیکشن کمیشن کا پنجا ب میں لوکل گورنمنٹ انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں اجلاس منگل کو ہوا جس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطا ن راجہ نے کی۔ اجلاس میں ممبران الیکشن کمیشن کے علاوہ سیکرٹری ا لیکشن کمیشن ، سپیشل سیکرٹری ، سپیشل سیکرٹری لاء اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے الیکشن کمیشن کو بریف کیا کہ پنجاب اسمبلی نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ا یکٹ 2025 منظور کر لیا ہے جس کی منظوری گورنر پنجاب نے بھی دے دی ہے۔
مذکورہ بالا ایکٹ کے اجراء کے ساتھ ہی پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 منسوخ کر دیا گیاہے، لہذا الیکشن کمیشن نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022کے تحت جو حلقہ بندی کمیٹیوں ، اتھارٹیوں اور حلقہ بندی کے شیڈول کا نوٹیفکیشن کیا تھا، اسے واپس لینا چاہیے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کمیشن کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے الیکشن کمیشن کو مراسلہ تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025منظور ہوگیا ہے جس میں لوکل گورنمنٹس کا سٹرکچر وغیر ہ تبدیل کر دیا گیا ہے، لہذا صوبائی حکومت کو تین سے چار ہفتے دیئے جائیں تاکہ وہ حلقہ بندی اور ڈیمار کیشن رولز کی تکمیل کو یقینی بنائے۔
سپیشل سیکرٹری لاء نے الیکشن کمیشن کو بریف کیا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے منظور ہونے کے بعد سابقہ قانون کے مطابق حلقہ بندی کرنا اور الیکشن کیلئے اقدامات اٹھا نا الیکشنز ایکٹ 2017 کی سیکشن 219 کی خلاف ورزی ہوگی جس میں واضح طورپر لکھا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن مروجہ لوکل گورنمنٹ قوانین کے تحت انتخابات کروائے گا۔
الیکشن کمیشن نے آئین وقانون اور حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ الیکشن کمیشن لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے تحت پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کروائے گا، لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 کے تحت دیاگیا حلقہ بندی کا شیڈول واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ، پنجاب گورنمنٹ کو حلقہ بندی اور ڈیمارکیشن رولز کی تکمیل کیلئے 4 ہفتے دینے کا فیصلہ کیا جس میں مزید اضافہ نہ کیا جائے گا۔آفس کو حکم دیا گیا کہ صوبائی حکومت کو تحریر کریں کہ وہ مذکورہ بالا کام 4ہفتے کے اندر مکمل کرے، بصورت دیگر لوکل گورنمنٹ الیکشن کے مسئلے کو ریگولر سماعت کیلئے مقر ر کر کے کمیشن مناسب فیصلہ کرے گا۔







