اسلام آباد ۔ 16 دسمبر (اے پی پی) چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ پولیس اہلکار سفارش ماننے سے انکاراورحکومتی احکامات پرعمل کریں۔ پولیس کو سیاست سے پاک کرنے کیلئے کوئی اور نہیں آئے گا سفارش کرنے والوں کیخلاف کارروائی یا ان کی شکایت کی جائے توحالات جلد بہتر ہوں گے،آرمی پبلک سکول پشاور سانحہ پوری قوم کیلئے اندوہناک دھچکا تھا جس نے ہم سب کو ہلاکررکھ …
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا پولیس اکیڈمی میں اپنے اعزاز میں الوداعی ظہرانے سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 دسمبر (اے پی پی) چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ پولیس اہلکار سفارش ماننے سے انکاراورحکومتی احکامات پرعمل کریں۔ پولیس کو سیاست سے پاک کرنے کیلئے کوئی اور نہیں آئے گا سفارش کرنے والوں کیخلاف کارروائی یا ان کی شکایت کی جائے توحالات جلد بہتر ہوں گے،آرمی پبلک سکول پشاور سانحہ پوری قوم کیلئے اندوہناک دھچکا تھا جس نے ہم سب کو ہلاکررکھ دیا تھا لیکن یہ وہ سانحہ ہے جس نے آخر کار پوری قوم کونیشنل ایکشن پلان پرمتفق کردیا، پولیس اصلاحات کابنیادی مقصد عوام کی بہترخدمت کرنے کویقینی بناناہے۔ پیر کو پولیس اکیڈمی میں اپنے اعزاز میں دیئے گئے الوداعی ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ہم عوام کی خدمت یقینی بنانے کیلئے پولیس ریفارمزلائے ہیں جس کیلئے پہلے پولیس ریفارمز کمیٹی بنائی گئی تھی جس پرکوئی اضافی بجٹ نہیں لگا ،ہم نے سمجھ لیاتھا کہ پولیس کا غیر سیاسی رہنا بہت ضروری ہے اوراگر آپ غیر سیاسی رہنا چاہتے ہیں تو سفارش کو کبھی نہ مانیں،کوئی رکن اسمبلی یا ناظم سفارش کرے تو اس کیخلاف کاروائی کریں۔ان کی شکایت لگائیں اور مس کنڈکٹ کی کاروائی کریں، پولیس کوچاہےیے کہ وہ صرف حکومتی حکم پرعمل اور اپنے فیصلے خود کرے، پھر دیکھیں کہ حالات کس قدر جلد بہتر ہوں گے۔ چیف جسٹس نے پولیس پر زود دیا کہ آپ کو سیاست سے پاک کرنے کیلئے کوئی اور نہیں آئے گا بلکہ آپ نے یہ کام خود کرنا ہے،پولیس اصلاحات کابنیادی مقصد ہی پولیس کو غیر سیاسی کرنا تھا،چیف جسٹس نے کہا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کویقینی بنانا حکومت کافرض ہے ، اوراگر بنیادی حقوق کا نفاذ نہ ہو تو ریاست کا قائم رہنا مشکل ہوجاتا ہے, اس ضمن میں پولیس کا بھی اہم کردار ہے چیف جسٹس نے کہاکہ آج کی تاریخ سے دو دلخراش واقعات جڑے ہیںایک سقوط ڈھاکہ اور دوسرا سانحہ آرمی پبلک سکول ۔دونوں واقعات میں ہمارے لیے سبق موجود ہے ، کہ ریاست حکومت اور عوام کے باہمی اشتراک سے بنتی ہے، ہمارا ایک بازو اس لئے ہم سے جدا ہوا کہ ریاست نے ان کا خیال نہیں رکھاتھا، دوسری جانب آرمی پبلک سکول سانحہ ایک درد نا ک واقعہ ہے جس نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا اوراسی سانحہ کے بعد بالاخر پوری قوم نیشنل ایکشن پلان پر متفق ہو گئی ،جس کے بعدحالات میں بہتری آ رہی ہے۔ چیف جسٹس کاکہناتھاکہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے،اگر ریاست شہریوں کو حقوق دینے سے انکار کر دے تو مسائل پیدا ہوتے ہیں،چیف جسٹس نے مذید کہاکہ پولیس اصلاحات میں ایس پی شکایات سیل کے قیام سے شکایات میں 33 فیصد کمی آئی اس سے ہائیکورٹ میں لوگ پولیس کیخلاف درخواستیں لے کر جاتے تھے اس میں کمی آئی ہے عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کی تعداد میں کمی آئی ہے جس پر میں تمام انسپکٹر جنرلز کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس معاملے میں انتھک محنت سے کام کیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ جسٹس گلزار احمد اس کام کو مزید آگے بڑھائیں گے، ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے نامزد چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ پولیس ریفارمز کا کام چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے شروع کیاتاکہ پولیس حقیقی معنوں میں عوام کی خدمت اورحفاظت کو یقینی بناسکے لوگوں کے جان و مال کا تحفظ اور سیکورٹی فراہم کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔ بدقمستی سے ماضی میںکچھ ایسے واقعات ہوئے ہیںجن میں پولیس کا کردار نظر نہیں آیا, لیکن اب ہم نے اپنی پولیس کو مثالی بنانا ہے ہماری ,پولیس میں بہتر کارکردگی کی صلاحیت موجود ہے اور وہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کی استطاعت رکھتی ہے میں یقین دلاتاہوں کہ جو کام چیف جسٹس نے شروع کیا وہ میں جاری رکھوں گا۔








