پشاور۔ 09 مارچ (اے پی پی):چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت پیر کے روز ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں پٹرولیم مصنوعات کی طلب و رسد، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بین الاقوامی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی پٹرولیم مصنوعات کی …
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی زیر صدارت ہفتہ وار جائزہ اجلاس

مزید خبریں
پشاور۔ 09 مارچ (اے پی پی):چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت پیر کے روز ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں پٹرولیم مصنوعات کی طلب و رسد، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بین الاقوامی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کے لئے قائم پی او ایل مانیٹرنگ سسٹم پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں صوبے میں پٹرولیم مصنوعات کی طلب اور دستیابی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور یہ بھی دیکھا گیا کہ آیا یہ مصنوعات مقررہ سرکاری قیمتوں پر دستیاب ہیں یا نہیں۔ چیف سیکرٹری نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ باقاعدگی سے بازاروں کے دورے کریں، پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائیں، ذخیرہ اندوزی اور زائد قیمت وصول کرنے کی شکایات کا فوری ازالہ کریں۔ اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت جاری بڑے منصوبوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر تھنڈیانی ٹورازم پراجیکٹ، گنوُل انٹیگریٹڈ ٹورازم زون، بایون اسکی ریزورٹ کالام اور درابن اکنامک زون کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔اسی طرح اہم شاہراہوں اور انفراسٹرکچر منصوبوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا جن میں پشاور۔ ڈی آئی خان موٹروے، سوات موٹروے، دیر موٹروے اور انڈس ہائی وے (این۔55) کو ہکلا۔ ڈی آئی خان موٹروے سے ملانے والی سڑک شامل ہیں۔
اس کے علاوہ الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز، الیکٹرک رکشہ اور بس منصوبوں کے ساتھ ساتھ پشاور میں انفراسٹرکچر کی بحالی کے اقدامات پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر پشاور کے دفتر کی جانب سے متعارف کرائی گئی مختلف جدید انتظامی اور ریونیو اصلاحات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان اقدامات میں گرداوری کی ڈیجیٹلائزیشن، خسرہ وار ویلیڈیشن ٹیبل اور جدول کی تیاری، ای رجسٹری سسٹم کا ای آڈٹ اور محفوظ خانہ کے ریکارڈ کی اسکیننگ اور ڈیجیٹل آڈٹ شامل ہیں۔چیف سیکرٹری نے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی اصلاحات سے ریونیو کے نظام میں شفافیت آئے گی اور عوام کے لیے سہولت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ان اقدامات کو پورے صوبے میں نافذ کرنے کے لیے کام شروع کیا جائے۔ انہوں نے افسران کو یہ بھی ہدایت کی کہ ان اقدامات کو دیگر اضلاع میں نافذ کرنے کے لیے رہنما اصولوں اور معلوماتی بروشرز تیار کیے جائیں۔ اجلاس میں انتظامی سیکرٹریز، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے شرکت کی، جن میں سے بعض افسران نے بالمشافہ جبکہ بیشتر نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔








