چین،سی آئی ایم ایم وائی ٹی کے ساتھ مل کر افریقہ اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے ساتھ فصلوں کی افزائش اور پیداوار میں تعاون کرے گا

بیجنگ۔14جنوری (اے پی پی):چین، بین الاقوامی مکئی اور گندم کے امپروومنٹ سنٹر (سی آئی ایم ایم وائی ٹی )کے ساتھ مل کر افریقہ اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے ساتھ فصلوں کی افزائش اور پیداوار میں تعاون کرے گا۔ یہ بات صوبہ ہینان کے شہر سانیا میں منعقدہ ایک فورم کے دوران کہی گئی ۔آرگنائزر کے مطابق چین -سی آئی ایم ایم وائی ٹی برائے ساؤتھ-ساؤتھ کوآپریشن فورم میں ماہرین …

بیجنگ۔14جنوری (اے پی پی):چین، بین الاقوامی مکئی اور گندم کے امپروومنٹ سنٹر (سی آئی ایم ایم وائی ٹی )کے ساتھ مل کر افریقہ اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے ساتھ فصلوں کی افزائش اور پیداوار میں تعاون کرے گا۔ یہ بات صوبہ ہینان کے شہر سانیا میں منعقدہ ایک فورم کے دوران کہی گئی ۔آرگنائزر کے مطابق چین -سی آئی ایم ایم وائی ٹی برائے ساؤتھ-ساؤتھ کوآپریشن فورم میں ماہرین نے گندم کی سائنس، ٹیکنالوجی کے فروغ، چین، سی آئی ایم ایم وائی ٹی، اور گلوبل ساؤتھ کے درمیان تربیت میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔سی آئی ایم ایم وائی ٹی کے گلوبل ویٹ پروگرام کے ایک سائنس دان ہنس براؤن نے کہا کہ گندم عالمی غذائی تحفظ کی بنیاد ہے، پھر بھی موسمیاتی تبدیلیوں نے جنوبی ایشیا اور افریقہ جیسے کم عرض و بلد والے خطوں میں گندم کی پیداوار کو شدید متاثر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 50 سال میں،سی آئی ایم ایم وائی ٹی کی اقسام اور کاشتکاری کی ٹیکنالوجیز نے جنوبی ایشیائی ممالک، جیسے کہ پاکستان اور افریقی ممالک میں گندم کی پیداوار میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیماری اور تناؤ سے مزاحمت کے ساتھ ساتھ افزائش نسل کی تربیت کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔چین اور پاکستان کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر گندم کی دو زیادہ پیداوار والی اقسام تیار کی ہیں جو رواں سال پاکستان میں تجارتی پیداوار کے لیے منظور کی جا سکتی ہیں۔

چائنہ ڈیلی نے رپورٹ کیا کہ یہ نئی اقسام زرد زنگ کے خلاف مزاحمت کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہیں ،اس سے گندم کی مقامی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہونے کی توقع ہے۔چین پاکستان جوائنٹ ویٹ مالیکیولر بریڈنگ انٹرنیشنل لیب کے سائنسدان اویس رشید نے کہا کہ ساؤتھ-ساؤتھ کا اشتراک ، خاص طور پر چین کے اداروں اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے درمیان، اشرافیہ کی فصلوں کی بہتر پیداوار کے لیے مالیکیولر بریڈنگ کے استعمال کو فروغ دے سکتا ہے۔چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے پروفیسر ہی ژونگہو نے کہا کہ موجودہ تعاون کی بنیاد پر، چین ساؤتھ-ساؤتھ کوآپریشن کے اثرات کو بڑھانے کے لئے اقسام، ٹیکنالوجی اور ہنر میں اپنی ترقی ، ٹیکنالوجی اور مہارت کو بھرپور انداز میں بروئے کار لائےگا۔پروفیسر ہی ژونگہو جوسی آئی ایم ایم وائی ٹی کے چائنا آفس کے ملکی نمائندے بھی ہیں،نے کہا کہ فورم کا مقصد چین، سی آئی ایم ایم وائی ٹی اور گلوبل ساؤتھ کے درمیان مختلف شعبوں میں تبادلے کو فروغ دینا ہے جیسے مکئی اور گندم کی اقسام میں بہتری، فصل کا انتظام، اور اناج کے دوران پروسیسنگ نقصان میں کمی کرنا ہے ۔

چین اور افریقی ممالک فوزیریم کے خلاف مزاحمت کرنے والی گندم کی اقسام کاشت کرنے کے تجربے اور ٹیکنالوجی کے اشتراک سے فوزیریم ہیڈ بلائٹ جیسی بیماریوں اور کیڑوں کی نگرانی اور روک تھام کے لیے تعاون کو فروغ دیں گے۔ ماہرین نے ڈسکشن پینل کے دوران کہا کہ اس تعاون سے گندم کی مقامی پیداوار بڑھانے میں مدد ملے گی۔ورلڈ فوڈ پروگرام چین سے جیا یان نے کہا کہ سی آئی ایم ایم وائی ٹی ، اور اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کی شمولیت، گلوبل ساؤتھ کے درمیان اس تعاون کو مضبوط کرے گی۔اس کے علاوہ، قلیل مدتی تربیت اور سیمینار چین اور بیرون ملک منعقد کئے جائیں گے، جن میں صوبائی زرعی اکیڈمیاں اور متعلقہ یونیورسٹیاں شرکت کریں گی۔