اسلام آباد ۔ 21 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ چینی بحران کے ذمہ داروںکے خلاف کارروائی ہوگی ،عیدکے بعد کیا ایکشن ہوگا شہزاد اکبر کی ذمہ داری لگا دی گئی ہے۔ جمعرات کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب چینی برآمد کرنے کی اجازت دی گئی اس وقت چینی کی قلت …
چینی بحران کے ذمہ داروںکے خلاف کارروائی ہوگی، عیدکے بعد کیا ایکشن ہوگا شہزاد اکبر کی ذمہ داری لگا دی گئی ہے، چینی کے معاملہ پر مجھ پر کسی طرح کا کوئی دبائو نہ تھا، وزیراعظم نے مجھے کوئی فیصلہ کرنے پر مجبور نہیں کیا، مارکیٹ میں چینی موجود تھی پھر چینی کی قیمت کیوں بڑھی، وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ چینی بحران کے ذمہ داروںکے خلاف کارروائی ہوگی ،عیدکے بعد کیا ایکشن ہوگا شہزاد اکبر کی ذمہ داری لگا دی گئی ہے۔ جمعرات کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب چینی برآمد کرنے کی اجازت دی گئی اس وقت چینی کی قلت نہ تھی ،مارکیٹ میں چینی موجود تھی پھر چینی کی قیمت کیوں بڑھنا شروع ہوئی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ چینی معاملہ پر مجھ پر کسی طرح کا کوئی دبائو نہ تھا ،وزیراعظم نے مجھے کوئی فیصلہ کرنے پر مجبور نہیں کیا، چینی برآمد کرنے کا فیصلہ ای سی سی میں ہوا تھا ۔انہوںنے کہا کہ میرے خیال میں چینی برآمد ہونی چاہیے تھی، انہوںنے بتایاکہ جب 2018 میں چینی برآمد کرنے کا فیصلہ ہوا اس وقت 20 لاکھ ٹن سرپلس چینی تھی اس لیے ملک میں چینی کا کوئی مسئلہ نہ تھا۔انہوںنے بتایا کہ ملز والے کہہ رہے تھے کہ ہمارا مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو کرشنگ نہیں کریں گے حالانکہ قانون میںلکھا ہے کہ 30 نومبر تک کرشنگ شروع کی جائے۔








