چینی سائنسدانوں کا ممالیہ جانور کے دماغ میں وقت کو انکوڈ کرنے والے نیورون کلسٹرز کو شناخت کرنے کا دعویٰ

بیجنگ۔18اپریل (اے پی پی):چینی سائنسدانوں نے ممالیہ جانور کے دماغ میں وقت کو انکوڈ کرنے والے نیورون کلسٹرز کو شناخت کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے انسان کے جسم کے اندر کام کرنے والے بائیولوجیکل کلاک کے ڈیزائن کو سمجھنے کے لئے نئے سراغ ملیں گے۔ شنہوا کی جاری رپورٹ کے مطابق پیکنگ یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ سپراکیاسمیٹک نیوکلیئس ممالیہ جانوروں میں مختلف …

بیجنگ۔18اپریل (اے پی پی):چینی سائنسدانوں نے ممالیہ جانور کے دماغ میں وقت کو انکوڈ کرنے والے نیورون کلسٹرز کو شناخت کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے انسان کے جسم کے اندر کام کرنے والے بائیولوجیکل کلاک کے ڈیزائن کو سمجھنے کے لئے نئے سراغ ملیں گے۔

شنہوا کی جاری رپورٹ کے مطابق پیکنگ یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ سپراکیاسمیٹک نیوکلیئس ممالیہ جانوروں میں مختلف قسم کے نیورونز کے ساتھ مل کر مرکزی سرکیڈین پیس میکر کے طور پر کام کرتا ہے،اس نیٹ ورک میں شامل ہر ایک نیورون کے اندر ایک خود مختار مالیکیولیر کلاک کا م کرتا ہے۔

محققین نے اس بات کا مشاہدہ کرنے کے لئے اپنی تیار کردہ ہائی سپیڈ ڈوئل ویو ٹو فوٹان مائیکروسکوپ کا استعمال کرتے ہوئے بیک وقت 9 ہزار نیورونز کی کیلشیم آئن امیجنگ کو عملی شکل دی اور ان امیجز میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینےکے لئے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا۔

محققین نے نتائج سے اخذ کیا کہ کیلشیم آئنز کے سگنلز اجتماعی فیصلہ کرنے والے مکینزم کے ذریعے ہر گزرتے گھنٹے کا انداز ہ لگاتے ہیں جو تقریباً 99 فیصد تک درست ہوتا ہے۔ محققین کے مطابق یہ نیورونز ممالیہ جانوروں کے دماغ کے ایک مخصوص حصے میں موجود ہوتے ہیں۔

مزید خبریں