بیجنگ۔20جنوری (اے پی پی):چین کے سائنس دانوں نے پروگرام شدہ بیکٹیریا پر مشتمل ایک نیا ’’زندہ سمارٹ گلو‘‘ تیار کر لیا ۔ یہ بیکٹیریا آنتوں کے اندر خود حرکت کر کے زخموں کی نشاندہی کرتے ہیں اور انہیں جوڑ کر بھرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ طریقہ انفلیمیٹری باؤل ڈیزیز (IBD) کے علاج کے لیے ایک نیا حل پیش کرتا ہے۔ شنہوا کے مطابق یہ تحقیق گزشتہ روز عالمی شہرت …
چینی سائنس دانوں نے آنتوں کی بیماری کے علاج کے لئےسمارٹ لیونگ گلو تیار کر لیا

مزید خبریں
بیجنگ۔20جنوری (اے پی پی):چین کے سائنس دانوں نے پروگرام شدہ بیکٹیریا پر مشتمل ایک نیا ’’زندہ سمارٹ گلو‘‘ تیار کر لیا ۔ یہ بیکٹیریا آنتوں کے اندر خود حرکت کر کے زخموں کی نشاندہی کرتے ہیں اور انہیں جوڑ کر بھرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ طریقہ انفلیمیٹری باؤل ڈیزیز (IBD) کے علاج کے لیے ایک نیا حل پیش کرتا ہے۔ شنہوا کے مطابق یہ تحقیق گزشتہ روز عالمی شہرت یافتہ سائنسی جریدے نیچر بائیوٹیکنالوجی میں شائع ہوئی۔
تحقیق شینژن انسٹی ٹیوٹس آف ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی اور شینژن یونیورسٹی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر انجام دی، جو چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ میں واقع ہیں۔محققین نے آنتوں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے ایک بے ضرر بیکٹیریا ای کولی (E. coli) کو جینیاتی طور پر اس طرح تبدیل کیا کہ وہ مخصوص حالات میں ہی فعال ہو۔ اس مقصد کے لئے بیکٹیریا میں ایک خاص جینی سرکٹ شامل کیا گیا جو صرف اس وقت متحرک ہوتا ہے جب آنتوں میں خون موجود ہو جو انفلیمیٹری باؤل ڈیزیز کی شدید کیفیت، اندرونی زخموں اور خون بہنے کی اہم علامت ہے۔
جیسے ہی یہ بیکٹیریا خون کی موجودگی کو محسوس کرتے ہیں، وہ ایک نہایت چپکنے والی پروٹین خارج کرتے ہیں، جو سمندری جاندار بارنیکل سے حاصل شدہ مادے سے مشابہ ہے۔ بارنیکل اپنی غیر معمولی مضبوط چپکنے کی صلاحیت کے لئے مشہور ہیں۔ یہ پروٹین خون بہنے والی جگہ پر ایک مضبوط حفاظتی تہہ (سیل) بنا دیتا ہے، جو نہ صرف خون کو روکنے میں مدد دیتی ہے بلکہ آنتوں کی اندرونی جھلی کی مرمت کے لئے شفا بخش عوامل بھی خارج کرتی ہے۔ تحقیق کے مرکزی مصنف ژونگ چاؤ کے مطابق انجینئرڈ بیکٹیریا کو مائع شکل میں تیار کر کے منہ یا مقعد کے ذریعے جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔
آنتوں میں پہنچنے کے بعد یہ بیکٹیریا فلم جیسی ساخت بنا کر صرف متاثرہ اور خون بہنے والی جگہوں سے چپک جاتے ہیں، جہاں یہ خون روکنے اور ٹشوز کی بحالی میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک ہی بار دوا دینے سے یہ بیکٹیریا منہ کے ذریعے دینے کی صورت میں 7 دن اور مقعد کے ذریعے دینے کی صورت میں 10 دن تک سوزش زدہ بافتوں سے چپکے رہے۔
چوہوں پر کیے گئے تجربات میں اس علاج کے نمایاں فوائد سامنے آئے، جن میں وزن کی بحالی، بڑی آنت کے غیر معمولی سکڑاؤ کا خاتمہ اور آنتوں سے خون بہنے میں واضح کمی شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ ایک بڑے سائنسی چیلنج کو حل کرتا ہے کیونکہ آنتوں کا ماحول مسلسل نم اور متحرک رہتا ہے، جہاں روایتی ادویات کا مخصوص جگہ پر مؤثر طور پر قائم رہنا مشکل ہوتا ہے۔
تحقیقی ٹیم اب اس ’’زندہ گوند‘‘ کو انسانی آزمائشوں (کلینیکل ٹرائلز) کی جانب لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے، جو مستقبل میں آنتوں کی سوزش کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لئے ایک محفوظ، مؤثر اور ہدفی علاج ثابت ہو سکتا ہے۔








