چینی نجی سرمایہ کاری کیلئے اصلاحات اور مستحکم پالیسیاں ناگزیر ہیں ، ماہرین

چینی نجی سرمایہ کاری کیلئے اصلاحات اور مستحکم پالیسیاں ناگزیر ہیں ، ماہرین

اسلام آباد۔4مئی (اے پی پی):معاشی ماہرین اور پالیسی سازوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان ماحول دوست صنعت، شمسی اور ہوا سے بجلی بنانے اور بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کے شعبوں میں چینی نجی شعبے کی سرمایہ کاری حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے جلد ساختی اصلاحات، پالیسیوں میں تسلسل اور مسابقتی مراعات کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت سرکاری سطح کی پیش رفت کے بعد اب اصل چیلنج چینی نجی کمپنیوں کو متوجہ کرنا ہے جس کے لئے پاکستان نے بہتر انفراسٹرکچر، آسان ضابطہ کار، موثر ون ونڈو سہولت، سکیورٹی اور خصوصی اقتصادی زونز کی حقیقی فعالیت کو یقینی نہ بنایا توسرمایہ کاری کے مواقع دیگر خطوں کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں۔

چین کی گرین مینوفیکچرنگ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے لئے مقابلہ کے موضوع پر منعقدہ اس مشاورتی مکالمے کی نظامت ایس ڈی پی آئی کے ریسرچ ایسوسی ایٹ اور انرجی یونٹ کے سربراہ عبید الرحمٰن ضیاء نے کی۔ابتدائی کلمات میں پاکستان-چین انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر سید نے کہا کہ اگرچہ سی پیک کے تحت چینی سرکاری کمپنیوں (ایس او ایز) کے ذریعے قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے تاہم آئندہ ترقی کا انحصار ان چینی نجی کمپنیوں کو متوجہ کرنے پر ہے جو بیرون ملک منتقل ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چھتوں پر شمسی توانائی (روف ٹاپ سولرائزیشن) اس حوالے سے ایک موثر نقطہ آغاز ثابت ہو سکتی ہے تاہم پاکستان کو ویتنام اور ملائیشیا جیسے آسیان ممالک کے ساتھ مقابلہ کرنا ہوگا کیونکہ وہاں بہتر انفراسٹرکچر، آسان طریقہ کار اور سرمایہ کار دوست پالیسیاں ہیں۔

انہوں نے مشترکہ منصوبہ بندی، رعایتی زمین، ٹیکس چھوٹ، درآمدی مشینری پر ڈیوٹی میں رعایت اور موثر ون ونڈو سہولت کے قیام پر زور دیا۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے نیٹ زیرو انڈسٹریل پالیسی لیب کی محقق شیاو کانگ شوئے نے تحقیقی نتائج پیش کرتے ہوئے کہا کہ آسیان اور وسطی ایشیا میں صاف ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ میں چینی بیرون ملک سرمایہ کاری میں تیزی آئی ہے۔ موجودہ حالات میں میزبان ممالک کو ایسی سرمایہ کاری کے لئے منڈی تک رسائی، خام مال کی دستیابی اور طویل مدتی پالیسی وضاحت کو یقینی بنانا ہوگا اور سرمایہ کاروں کو انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور ملائیشیا جیسے ممالک کے برابر مالی مراعات دینا ہوں گی۔چائنا انرجی انجینئرنگ گروپ کمپنی لمیٹڈ کے سینئر مشیر ڈاکٹر حسن دائود بٹ نے زور دیا کہ پاکستان کو مسابقت برقرار رکھنے کےلئے قابل اعتماد، کم لاگت اور ماحول دوست توانائی نظام تیار کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل کی غیر ملکی سرمایہ کاری توانائی بچانے والی ٹیکنالوجیز، سمارٹ گرڈز اور کم کاربن مینوفیکچرنگ پر مرکوز ہوگی جسے مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا سینٹرز جیسے جدید شعبوں کی طلب تقویت دے رہی ہے۔ڈاکٹر بٹ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاست کو سہولت کار کا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ صنعتی ترقی، جدت اور تنوع کو فروغ دیا جا سکے۔انڈیانا یونیورسٹی بلومنگٹن کے ہیملٹن لوگر سکول آف گلوبل اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی اسسٹنٹ پروفیسر اسٹیلا ہانگ ژانگ نے آسیان اور مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ (مینا) ماڈلز کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس واضح صنعتی حکمت عملی کا فقدان ہے اور وہ مقامی پیداوار کو فروغ دینے کے بجائے چینی شمسی ٹیکنالوجی کی درآمد پر انحصار کر رہا ہے ۔بحث کے دوران ماہرین نے برآمدی متبادل پالیسی، کان کنی اور نایاب معدنیات جیسے ترجیحی شعبوں کے لئے مراعات، اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کی اہمیت پر زور دیا۔تیانجن یونیورسٹی کے اے پیک سسٹین ایبل انرجی سینٹر سے وابستہ پروفیسر ایم اے جن لونگ نے پاکستان کے بجلی کے نظام کو مضبوط بنانے، خصوصی اقتصادی زونز کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے اور کم کاربن توانائی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ بین الاقوامی منڈیوں کے تقاضے پورے کئے جا سکیں۔

انہوں نے موثر ضابطہ جاتی طریقہ کار، سرمایہ کار دوست پالیسیاں اور مصنوعی ذہانت و سرکلر اکانومی کے ڈھانچے کی ترقی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔اختتامی کلمات میں عبید الرحمٰن ضیاء نے کہا کہ اس نشست کی سفارشات کو بجٹ تجاویز اور ایک جامع پالیسی دستاویز کا حصہ بنایا جائے گا جسے متعلقہ سرکاری اداروں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ باخبر اور موثر پالیسی سازی کو فروغ دیا جا سکے۔

مزید خبریں