اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر مہر کاشف یونس نے امید ظاہر کی ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان چینی کرنسی میں براہ راست تجارت اور کلیئرنگ سے امریکی ڈالر کی قدر میں تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہونے والے ممکنہ تجارتی اتار چڑھائو کو متوازن کرنے میں کافی حد تک مدد ملے گی۔ جمعرات کو یہاں”آر ایم بی سیٹلمنٹ اور کلیئرنگ کے امکانات“ کے موضوع …
چین اور پاکستان کے درمیان چینی کرنسی میں براہ راست تجارت سے ڈالر کی وجہ سے ممکنہ تجارتی اتار چڑھائو متوازن ہو گا، مہر کاشف یونس

مزید خبریں
اسلام آباد۔10نومبر (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر مہر کاشف یونس نے امید ظاہر کی ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان چینی کرنسی میں براہ راست تجارت اور کلیئرنگ سے امریکی ڈالر کی قدر میں تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہونے والے ممکنہ تجارتی اتار چڑھائو کو متوازن کرنے میں کافی حد تک مدد ملے گی۔ جمعرات کو یہاں”آر ایم بی سیٹلمنٹ اور کلیئرنگ کے امکانات“ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آر ایم بی کلیئرنگ چین اور پاکستان کے لیے فنانسنگ اور خریداری میں صنعتی تعاون کو مزید بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
روڈ اینڈ بیلٹ انیشیٹو ممالک کے مابین تجارتی حجم گزشتہ سال 11.6 ٹریلین یوآن تک پہنچ چکا ہے۔ اگر آر ایم بی کلیئرنگ اور سیٹلمنٹ کی مکمل حوصلہ افزائی کی جائے تو بیلٹ اینڈ روڈ کے ساتھ ساتھ ان ممالک میں تجارتی کارکردگی میں بہتری اور مالی تعاون میں بھی وسعت آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز بینک آف چائنا کے ساتھ سٹیٹ بنک آف پاکستان کے معاہدے کے مطابق، ان انتظامات کے تحت دونوں ممالک کے کاروباری اور مالیاتی اداروں کو سرحد پار لین دین میں سہولت فراہم ہو گی۔
اس سے باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں امریکی ڈالر کی طلب میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ امریکی ڈالر کی شرح سود میں اضافے اور مالیاتی تنائو کی وجہ سے ممکنہ منفی سپل اوور کے نتیجے میں ترقی پذیر ممالک کی کرنسیاں لامحالہ گراوٹ کا شکار ہو جائیں گی۔
مہر کاشف یونس نے ”2022 ء آر ایم بی انٹرنیشنلائزیشن“ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سروے شدہ عالمی صنعتی اور تجارتی فرموں میں سے تقریباً 78.8 فیصد آر ایم بی کو اپنانے یا سرحد پار لین دین میں اس کا حصہ بڑھانے کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔ 2021 ء کے سوئفٹ ڈیٹا کے مطابق مختلف ممالک کی طرف سے کی جانے والی تمام کرنسیوں کی ادائیگیوں میں آر ایم بی کا حصہ 2.7 فیصد بنتا ہے، جو گزشتہ نصف دہائی کے مقابلے میں 1 فیصد زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوویڈ کی عالمی وباءکے بعد سے امریکی ڈالر کے سوا دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں آر ایم بی میں کم گراوٹ آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وباءکے بعد سے جاپانی ین کی قدر میں 48 فیصد جب کہ برطانوی پاونڈ میں 27 فیصد ، یورو میں 22 فیصد کوریائی وان میں 33 فیصد اور چینی یوآن کی قدر میں 16 کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ اور امریکہ میں افراط زر اور توانائی کے بحران نے مارکیٹ کے اعتماد کو ختم کر دیا ہے۔
چین کی معیشت کا حجم یورپی یونین کے حجم کے برابر ہے اس لئے مستقبل میں سرمایہ کاروں کیلئےآر ایم بی محفوظ کرنسی پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2006 سے پاکستان اور چین کے درمیان سالانہ تجارت اوسطاً 17.61 بلین امریکی ڈالر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینک آف چائنا اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مابین معاہدے سے سرحد پار لین دین میں مدد ملے گی۔








