اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):پاکستان میں تعینات چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے کہا ہے کہ چین سی پیک فیز ٹو کے تحت پاکستان کی صنعتی ترقی، زرعی جدیدکاری اور بڑی کنیکٹیویٹی اپ گریڈز کیلئے بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔ بدھ کواسلام آباد میں ’’ری ڈیفائننگ ریجنل کنیکٹیویٹی: پاک-چین دوستی نئے جیو اکنامک منظرنامے میں‘‘ کے عنوان سے منعقدہ پالیسی ڈائیلاگ سے ویڈیو خطاب میں سفیر جیانگ نے چین کے …
چین سی پیک فیز ٹو کے تحت پاکستان کی صنعتی ترقی، زرعی جدیدکاری اور بڑی کنیکٹیویٹی اپ گریڈز کیلئے بھرپور تعاون جاری رکھے گا، چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ کا پالیسی ڈائیلاگ سے ویڈیو خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):پاکستان میں تعینات چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے کہا ہے کہ چین سی پیک فیز ٹو کے تحت پاکستان کی صنعتی ترقی، زرعی جدیدکاری اور بڑی کنیکٹیویٹی اپ گریڈز کیلئے بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔ بدھ کواسلام آباد میں ’’ری ڈیفائننگ ریجنل کنیکٹیویٹی: پاک-چین دوستی نئے جیو اکنامک منظرنامے میں‘‘ کے عنوان سے منعقدہ پالیسی ڈائیلاگ سے ویڈیو خطاب میں سفیر جیانگ نے چین کے پاکستان کے ساتھ پیداواری شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ پالیسی ڈائیگلاگ کی میزبانی بی این یو سینٹر فار پالیسی ریسرچ نے انڈر سٹینڈنگ چائنا فورم کے تعاون سے کی۔
چینی سفیر نے دو بڑے سرمایہ کاری منصوبوں کے لیے چینی تعاون کا اعلان کیا، ان منصوبوں میں ہائیر کا 400 ملین ڈالر مالیت کا ہوم اپلائنس صنعتی پارک جو سالانہ 1 کروڑ یونٹ تیار کرنے کی صلاحیت رکھے گا اور سالانہ 400 ملین ڈالر کی متوقع برآمدات کا حامل چیلنج گروپ کا 150 ملین ڈالر کا ٹیکسٹائل انڈسٹریل پارک شامل ہیں۔سفیر نے کہا کہ یہ دونوں منصوبے پاکستان کی برآمدی استعداد کو مضبوط کریں گے، روزگار کے مواقع پیدا کریں گے اور اعلیٰ قدر کی مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دیں گے۔زرعی تعاون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کنٹریکٹ فارمنگ کے تحت مزید پاکستانی مصنوعات کو شامل کرنے، مارکیٹ رسائی بہتر بنانے اور ویلیو چین روابط کو مضبوط کرنے میں مدد کرے گا ،جس سے پاکستان کی برآمدات میں تنوع اور زرمبادلہ کی آمدن میں استحکام آئے گا۔کنیکٹیویٹی کے حوالے سے انہوں نے کئی اہم منصوبوں پر پیش رفت کے لیے چین کی آمادگی کا اعادہ کیا جن میں قراقرم ہائی وے (رائیکوٹ-تھاکوٹ) کی ری الائنمنٹ، خنجراب-سوست بارڈر پورٹ کی جدیدکاری اور گوادر پورٹ کی جامع اپ گریڈیشن شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گوادر کو ایک مکمل فعال علاقائی لاجسٹک مرکز میں تبدیل کرنا سی پیک 2.0 کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔سی پیک کے پہلے مرحلے کا جائزہ پیش کرتے ہوئے سفیر جیانگ نے بتایا کہ اب تک 25.93 ارب ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری آئی، 8 ہزار میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہوئی، 510 کلومیٹر موٹرویز تعمیر ہوئیں اور 886 کلومیٹر ٹرانسمیشن لائنز بچھائی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین پاکستان فرینڈشپ ہسپتال اور گوادر میں 2 ہزار ٹن یومیہ صلاحیت رکھنے والے ڈیسلنیشن پلانٹ جیسے منصوبوں نے ہزاروں شہریوں کو صحت اور صاف پانی کی سہولت فراہم کی ہے۔انہوں نے لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس کا نظام بیجنگ کے ٹرانزٹ سسٹمز کے معیار کے برابر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 27 کروڑ سے زائد مسافروں کی سواری اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید شہری انفراسٹرکچر کس طرح زندگیوں میں تبدیلی لا رہا ہے۔سفیر نے کہا کہ سی پیک کے تحت پیدا ہونے والی 2 لاکھ 61 ہزار نوکریاں اس کے وسیع سماجی اثرات کو ظاہر کرتی ہیں اور عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی حالیہ معاشی بہتری جس میں 3.04 فیصد جی ڈی پی گروتھ اور فی کس آمدن میں اضافہ شامل ہے، کو بھی ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔سفیر نے کہا کہ چین پاکستان کی قومی ترجیحات کے مطابق سی پیک کو مزید ہم آہنگ کرتے ہوئے مشترکہ ترقیاتی حکمت عملی بنانے کے لیے تیار ہے۔
مستقبل میں تعاون صنعت، زراعت، معدنیات اور گرین ڈویلپمنٹ جیسے شعبوں میں مزید گہرا ہوگا جو پاکستان کی معاشی جدیدکاری میں براہِ راست کردار ادا کرے گا۔پالیسی ڈائیلاگ میں ’’کنیکٹیویٹی، تعاون اور امن‘‘ اور ’’علاقائی جیو اکنامکس کا مستقبل‘‘ کے موضوعات پر ماہرین کے سیشن بھی شامل تھے، جن میں سینئر پالیسی سازوں، صحافیوں، ماہرین معاشیات اور محققین نے شرکت کی۔








