چین میں سونے کی درآمد و برآمد سے متعلق قواعد میں ترامیم کی تجویز

"چین نے سونے کی درآمد و برآمد کے قواعد میں ترامیم کی تجویز پیش کرتے ہوئے تجارت میں سہولت، انتظامی نظام کو مؤثر بنانے اور سرحد پار سونے کی نقل و حرکت کے بہتر انتظام پر زور دیا ہے۔”

بیجنگ۔28جون (اے پی پی):چین کے ریگولیٹری اداروں نے سونے اور سونے کی مصنوعات کی درآمد و برآمد سے متعلق موجودہ قواعد و ضوابط میں ترامیم کی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد انتظامی نظام کو مزید مؤثر بنانا، تجارت میں سہولت فراہم کرنا اور افراد کی جانب سے سرحد پار لے جائے جانے والے سونے کے انتظام کو بہتر بنانا ہے۔

شنہوا کے مطابق چین کے مرکزی بینک، پیپلز بینک آف چائنا نے بتایا کہ مجوزہ ترامیم جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے اشتراک سے تیار کی گئی ہیں تاکہ بدلتے ہوئے معاشی حالات، قانونی تقاضوں اور پالیسی تبدیلیوں کے مطابق موجودہ ضابطہ کار کو جدید بنایا جا سکے۔مجوزہ قواعد کے تحت وہ شق ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس کے مطابق پیپلز بینک آف چائنا اور کسٹمز حکام مشترکہ طور پر ان افراد کے لیے قواعد وضع کرتے تھے جو سرحد پار سونا یا سونے کی مصنوعات اپنے ساتھ لے جاتے یا ڈاک کے ذریعے بھیجتے تھے تاہم مسودے میں واضح کیا گیا ہے کہ سرحد پار سونے اور سونے کی مصنوعات کی نقل و حرکت بدستور کسٹمز کی نگرانی کے تحت رہے گی تاکہ انتظامی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔مجوزہ ترامیم کا مقصد کاروباری اداروں اور عوام کے لیے سہولت میں اضافہ بھی ہے جس کے لیے عملی طور پر مؤثر ثابت ہونے والے انتظامی اقدامات کو باضابطہ قواعد کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔مرکزی بینک کے مطابق ان ترامیم کے ذریعے پیشگی نگرانی کے نظام کو بھی مضبوط بنایا جائے گا، جس کے تحت کسٹمز کی نگرانی کے دائرہ کار کو مزید واضح کیا جائے گا، بیرونی تجارت سے وابستہ ایجنٹ کمپنیوں کی نگرانی بہتر بنائی جائے گی اور قواعد کی خلاف ورزی پر سزاؤں کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔