چین میں شرح پیدائش میں ریکارڈ سطح تک کمی ، آبادی میں مسلسل چوتھے سال کمی

بیجنگ۔20جنوری (اے پی پی):چین میں شرح پیدائش میں ریکارڈ سطح تک کمی کے باعث کی آبادی میں گزشتہ سال کے دوران مسلسل چوتھے سال کمی واقع ہوئی ۔ العربیہ اردو نے چین کے قومی ادارہ شماریات (این بی ایس) کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ ملک کی آبادی 3.39 ملین کمی کے ساتھ 1.405 بلین ہو گئی جو 2024 کے مقابلے میں تیز کمی ہے جبکہ پیدائش …

بیجنگ۔20جنوری (اے پی پی):چین میں شرح پیدائش میں ریکارڈ سطح تک کمی کے باعث کی آبادی میں گزشتہ سال کے دوران مسلسل چوتھے سال کمی واقع ہوئی ۔ العربیہ اردو نے چین کے قومی ادارہ شماریات (این بی ایس) کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ ملک کی آبادی 3.39 ملین کمی کے ساتھ 1.405 بلین ہو گئی جو 2024 کے مقابلے میں تیز کمی ہے جبکہ پیدائش کی کل تعداد 2025 میں 7.92 ملین تک گر گئی جو 2024 میں 9.54 ملین کی تعداد سے 17 فیصد کم ہے۔ چین کے قومی ادارہ برائے شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق اموات کی تعداد بڑھ کر 11.31 ملین ہو گئی جو 2024 میں 10.93 ملین تھی۔

این بی ایس کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 60 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کی تعداد کل آبادی کے تقریباً 23 فیصد تک پہنچ گئی۔ آئندہ 10 سال یعنی 2035 تک 60 سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد 400 ملین تک پہنچنے والی ہے جو امریکا اور اٹلی کی مشترکہ آبادی کے تقریباً برابر ہے یعنی لاکھوں افراد ایسے وقت میں افرادی قوت کو چھوڑنے کے قریب ہیں جب پنشن کے بجٹ کے لیے رقم پہلے ہی ناکافی ہے۔ چین نے پہلے ہی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کر دیا ہے جو اب مردوں کے لئے 63 سال اور خواتین کے لئے 58 سال ہے۔ چین میں شادیوں میں 2024 میں خاصی کمی آئی اور شادی کے لئے 6.1 ملین سے زیادہ جوڑوں نے اندراج کرایا جو 2023 میں 7.68 ملین تھا۔