چین کا ترقیاتی تجربہ نچلی سطح پر اختیارات وبہتر طرزِ حکمرانی کی اہمیت اجاگر کرتا ہے، سپیکر پنجاب اسمبلی

سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ پاک چین کی 75 سالہ دوستی باہمی اعتماد وتعاون کی مضبوط بنیاد ہے، جسے آئندہ 75 برس میں مشترکہ ترقی، معاشی تعاون اور عوامی خوشحالی کے مزید موثر مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے

لاہور۔18ستمبر (اے پی پی):سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ پاک چین کی 75 سالہ دوستی باہمی اعتماد وتعاون کی مضبوط بنیاد ہے، جسے آئندہ 75 برس میں مشترکہ ترقی، معاشی تعاون اور عوامی خوشحالی کے مزید موثر مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے،چین کا ترقیاتی سفر اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ نچلی سطح پر اختیارات، عوامی شمولیت اور بہتر طرزِ حکمرانی کے ذریعے پائیدار ترقی ممکن ہے۔وہ لاہور کے مقامی ہوٹل میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی 77ویں سالگرہ کے سلسلے میں چینی قونصلیٹ جنرل لاہور کے زیر اہتمام منعقدہ قومی دن کی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے چینی حکومت اور عوام کو قومی دن پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ چین نے اقتصادی و سماجی ترقی کے ساتھ عالمی سطح پر امن، تعاون اور مشترکہ ترقی کے پیغام کو بھی فروغ دیا ہے۔ انہوں نے پنجاب اسمبلی کے وفد کے ہمراہ اپنے حالیہ دور چین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں دیہی علاقوں سے بڑے شہروں اور مختلف اداروں تک چین کے ترقیاتی ماڈل کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔

ملک محمد احمد خان نے کہا کہ چین کے ایک پہاڑی دیہی علاقے میں پسماندگی سے خود کفیل اور خوشحال کمیونٹی تک کا سفر اس امر کی مثال ہے کہ مقامی آبادی کو فیصلہ سازی، معاشی سرگرمیوں اور ترقی کے عمل میں شریک کیا جائے تو دیرپا نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین میں مقامی کاروبار، روایتی مصنوعات اور عوامی صلاحیتوں کو معاشی مواقع میں تبدیل کیا گیا، پاکستان کو بھی اپنے ترقیاتی عمل میں عوام کو بااختیار بنانے، مقامی اداروں کو موثر اور انسانی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، پاک چین تعاون کو صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، تعلیم، تحقیق اور ہنرمندی سمیت دیگر شعبوں تک مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔سپیکر ملک محمد احمد خاں نے پنجاب وچین کے صوبوں اور مقامی اداروں کے درمیان روابط مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قانون ساز ادارے پاک چین دوستی کے تسلسل اور اس تعلق کو نئی نسل تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، نوجوان پارلیمنٹیرینز، طلبہ، محققین، جامعات اور کاروباری افراد کے درمیان روابط بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی محض دو ریاستوں کے درمیان تعلق نہیں بلکہ دونوں اقوام کے درمیان اعتماد، احترام اور مشترکہ مستقبل کا رشتہ ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ 75 برس دونوں ممالک کے لیے مزید ترقی، خوشحالی، امن اور باہمی تعاون کا دور ثابت ہوں گے۔