چین کی انسانی حقوق کی عالمی حکمرانی میں اصلاحات کی اپیل

چین نے انسانی حقوق کی عالمی حکمرانی میں اصلاحات کی اپیل کی ہے۔

بیجنگ۔6اپریل (اے پی پی):چین نے انسانی حقوق کی عالمی حکمرانی میں اصلاحات کی اپیل کی ہے۔ سی جی ٹی این کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس میں چینی مندوب نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ مشترکہ طور پر انسانی حقوق کی عالمی حکمرانی میں اصلاحات اور بہتری لائیں تاکہ انسانی حقوق کے شعبے کی صحت مند ترقی کو مزید فروغ دیا جا سکے۔جنیوا میں چین کے مستقل مشن نے اجلاس کے موقع پر "ہر ایک کے لیے قابلِ رسائی سہولیات” کے موضوع پر ایک مکالمہ بھی منعقد کیا جس کا مقصد چین کی جانب سے پیش کی گئی اقوام متحدہ کی تاریخ کی پہلی معذوری سے متعلق خصوصی قرارداد پر عملدرآمد کو آگے بڑھانا اور انسانی حقوق کی عالمی حکمرانی کو مزید بہتر بنانا ہے ۔

یہ قرارداد رکاوٹوں سے پاک رسائی سے متعلق ہے ۔ چین نے 63 ممالک کی جانب سے مشترکہ بیان بھی پیش کیا، جس میں گلوبل گورننس انیشی ایٹو میں شامل انسانی حقوق کے مفہوم کو واضح کیا گیا اور تمام فریقوں سے اپیل کی گئی کہ وہ انصاف، برابری اور باہمی فائدے پر مبنی عالمی انسانی حقوق کے نظام کی مشترکہ تعمیر کریں۔علاوہ ازیں ،انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران چائنا ہیومن رائٹس ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن نے "عدم مساوات کا خاتمہ اور حقِ ترقی کے فروغ” کے موضوع پر ایک ضمنی اجلاس منعقد کیا، جس میں ملکی و غیر ملکی شخصیات نے زیادہ منصفانہ اور جامع ترقی کو فروغ دینے اور حقِ ترقی کے حصول جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔

مزید برآں، چین کی غیر سرکاری تنظیموں کی بین الاقوامی تبادلہ ایسوسی ایشن نے چین کے جنیوا مشن کے ساتھ مل کر "اعلامیہ حقِ ترقی” کی منظوری کے 40 سال مکمل ہونے کے موقع پر "سائنسی حل کے ذریعے انسانی حقوق کے چیلنجز کا مقابلہ” کے عنوان سے ایک خصوصی نشست کا انعقاد کیا، جس میں تمام فریقوں پر زور دیا گیا کہ وہ حقِ ترقی کو زیادہ اہمیت دیں اور جامع و ہمہ گیر ترقی کو فروغ دیں۔