چین کی سوڈان کے تنازع کے پائیدار اور موثر حل کے لیے بین الاقوامی برادری سے تعاون کی اپیل

بیجنگ۔20فروری (اے پی پی):چین نےبین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ سوڈان کے تنازع کے پائیدار اور موثر حل کے لیے پانچ نکاتی اتفاق رائے کو برقرار رکھے، تاکہ ملک اور اس کے عوام کو مزید تکالیف سے بچایا جا سکے۔ شنہوا کے مطابق چین کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ فو کانگ نے سلامتی کونسل میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو سوڈان کے …

بیجنگ۔20فروری (اے پی پی):چین نےبین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ سوڈان کے تنازع کے پائیدار اور موثر حل کے لیے پانچ نکاتی اتفاق رائے کو برقرار رکھے، تاکہ ملک اور اس کے عوام کو مزید تکالیف سے بچایا جا سکے۔ شنہوا کے مطابق چین کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ فو کانگ نے سلامتی کونسل میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو سوڈان کے تنازع کو پھیلنے سے روکنا چاہیے اور مزید جانی نقصان قبول نہیں کیا جا سکتا۔

پانچ نکاتی اتفاق رائے میں جلد از جلد جنگ بندی حاصل کرنا، انسانی بحران کو کم کرنا، ثالثی کے اقدامات کو مضبوط کرنا، سوڈانی ملکیت کی پاسداری اور ترقی و سلامتی کو یکجا کرنا شامل ہے ۔سفیر نے کہا کہ تمام فریقین کو سوڈان کے مجموعی قومی مفادات اور عوام کی طویل مدتی بھلائی کو ترجیح دینی چاہیے اور فوری طور پر جنگ بندی یقینی بنانی چاہیے، بیرونی قوتیں فوجی امداد فراہم کرنا بند کریں، تنازع کو بھڑکانے سے گریز کریں اور بحران سے فائدہ نہ اٹھائیں، چین شہریوں، شہری سہولیات اور اقوام متحدہ کے عملے پر حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے اور تمام فریقین پر زور دیتاہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی پابندی کریں اور کمزور گروہوں کو خصوصی تحفظ فراہم کریں۔

فو کانگ نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ امداد میں اضافہ کرے، فنڈنگ کے وعدوں کو پورا کرے اور سوڈان کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک کی مدد کرے جو بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو ثالثی میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے، جبکہ علاقائی تنظیمیں جیسے افریقی یونین، لیگ آف عرب سٹیٹس اور IGAD کو ہم آہنگی بڑھانی چاہیے تاکہ فریقین جلد از جلد مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ ممالک جو فریقین پر اثر رکھتے ہیں انہیں اختلافات ختم کرنے اور اعتماد قائم کرنے میں مدد کرنی چاہیے اور سوڈان کو جغرافیائی سیاسی مسابقت کا میدان نہیں بنانا چاہیے۔سفیر نے کہا کہ تمام فریقین کو سوڈان کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی پاسداری کرنی چاہیے، سوڈانی قیادت میں سیاسی منتقلی کی حمایت کرنی چاہیے اور کسی متوازی حکومت یا دیگر ایسے اقدامات کی مخالفت کرنی چاہیے جو ملک کی تقسیم کا سبب بن سکتے ہیں۔

فو کانگ نے کہا کہ پائیدار ترقی ہی تنازع کے بنیادی اور طویل مدتی حل کا ذریعہ ہے، اور چین سوڈانی حکومت کی حمایت کرتا ہے تاکہ وہ دارالحکومت کو واپس خرطوم منتقل کرنے کے موقع سے فائدہ اٹھا کر بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کی مرمت کرے، واپس آنے والوں کو آباد کرے، عوامی سکیورٹی مضبوط کرے اور قانون کی حکمرانی کو فروغ دے تاکہ عوام کی فلاح و بہبود میں بہتری آئے۔سفیر نے اختتام میں کہاکہ ہم تمام فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ فوری طور پر جنگ بندی کریں اور سوڈانی عوام کو امن اور سکون سے رمضان گزارنے کی اجازت دیں۔ چین بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر سوڈان کو پائیدار استحکام، ترقی اور خوشحالی حاصل کرنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔