چین کے اعلیٰ سطحی وفد کا دورہ ایف پی سی سی آئی ، پاک چائنہ تجارتی و اقتصادی تعلقات و سرمایہ کاری سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور بارے تبادلہ خیال
چین کے اعلیٰ سطحی وفد کا دورہ ایف پی سی سی آئی ، پاک چائنہ تجارتی و اقتصادی تعلقات و سرمایہ کاری سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور بارے تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔11اگست (اے پی پی):چین کے اعلیٰ سطح کے وفد نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز ( ایف پی سی سی آئی )کیپٹل آفس کا دورہ کیا جہاں صدر فیڈریشن عاطف اکرام شیخ اور کاروباری برادری کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس میں پاک چین تجارتی و اقتصادی تعلقات، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، صنعتی تعاون اور سی پیک کے دوسرے مرحلے سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چینی وفد میں سن جون ینگ سینئر ایڈوائزر اقتصادی امور، لیو لی ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف بیلٹ اینڈ روڈ اربن اینڈ ریجنل ڈویلپمنٹ، ڈالیان یونیورسٹی، شیے لائی ہوئی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈویژن آف بیلٹ اینڈ روڈسٹڈیز، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل سٹریٹجی، چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسز اور زو شو، ڈپٹی ڈائریکٹر اقتصادی امور پریس سمیت دیگر حکام شامل تھے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ چینی وفد کا پاکستان کا دورہ کاروباری شراکت داری اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے انتہائی اہم ہے، پاکستان اور چین کی بزنس کمیونٹیز کے درمیان مسلسل رابطہ کاری اور براہ راست بی ٹو بی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطح کے وفود کے باہمی دورے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، سی پیک صرف ایک راہداری نہیں بلکہ پاکستان کو عالمی ویلیو چین کا حصہ بنانے کا اہم منصوبہ ہے، سی پیک فیز ٹو میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر، سپیشل اکنامک زونز اور زرعی شعبے میں تعاون پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان مستقبل کے اہم منصوبوں میں ٹیکنالوجی پارکس کا قیام بھی شامل ہے، چین ٹیکنالوجی کے شعبے میں عالمی جائنٹ ہے اور پاکستان چینی ٹیکنالوجی اور مہارت سے بھرپور استفادہ کرسکتا ہے، دونوں ممالک کو ٹیکنالوجی، صنعت، زراعت اور جدید پیداواری شعبوں میں تعاون مزید بڑھانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومتوں کے درمیان تعاون ضروری ہے تاہم پائیدار معاشی فوائد کے حصول کے لیے دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹیز کو بھی فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
پاکستان چینی سرمایہ کاروں کے لیے سپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرسکتا ہے جبکہ پاکستانی اور چینی کاروباری برادری کے درمیان براہ راست روابط سے تجارت اور مشترکہ سرمایہ کاری کو نئی رفتار مل سکتی ہے۔ چینی وفد کے اراکین نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے وسیع امکانات موجود ہیں، دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹیز کے درمیان براہ راست رابطے دوطرفہ معاشی تعاون کے فروغ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ وفد نے کہا کہ سی پیک نے پاکستان اور چین کے درمیان معاشی تعاون کے لیے نئی بنیادیں فراہم کی ہیں اور اس کے دوسرے مرحلے میں صنعتی تعاون اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اشتراک کو مزید فروغ دیا جاسکتا ہے، چین پاکستان میں صنعتی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
وفد کے اراکین نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع کا جائزہ لینے کے لیے کاروباری برادری سے براہ راست رابطہ ضروری ہے۔ سپیشل اکنامک زونز پاکستان میں چینی سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے لیے اہم پلیٹ فارم ثابت ہوسکتے ہیں۔ چینی وفد نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان اکیڈمک، پالیسی اور بزنس حلقوں کے روابط معاشی تعاون کو مزید مستحکم کرسکتے ہیں، چین پاکستان کے ساتھ طویل المدتی اور باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی تعاون کو مزید آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔








