ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں پنجاب کی وزارت برائے خواتین کی ترقی اور پیغام پاکستان سینٹر فار پیس کے اشتراک سے "دختران پاکستان ویژن2020 ” مشاورتی اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ قیام پاکستان کے سفر میں قائداعظم کاساتھ فاطمہ جناح نے دیا،استحکام پاکستان کے لئے 72سال لگے، مشکل راستوں پر چلتے ہوئے کٹھن سفر طے کر لیا ،اب استحکام پاکستان کا سفر پر رواں دواں ہیں، مٹھی بھر اسلام کے ٹھیکیداروں نے اسلام کے تشخص کو متاثر …

اسلام آباد ۔ 29 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ قیام پاکستان کے سفر میں قائداعظم کاساتھ فاطمہ جناح نے دیا،استحکام پاکستان کے لئے 72سال لگے، مشکل راستوں پر چلتے ہوئے کٹھن سفر طے کر لیا ،اب استحکام پاکستان کا سفر پر رواں دواں ہیں، مٹھی بھر اسلام کے ٹھیکیداروں نے اسلام کے تشخص کو متاثر کیا، ہماری قوم میں کوئی انتہا پسند نہیں ہے اور نہ ہی اسلام کا ماننے والا اور حضورﷺ پر یقین رکھنے والا دہشت گرد ہوسکتا ہے، حضورﷺ خواتین کے سفیر بن کر سامنے آئے، پاکستان میں بسنے والی بیٹی اور بہن قوم کا وہ قیمیتی اثاثہ ہے جس سے اگلی نسلی کی تعلیم اور تربیت میں حصہ ڈالنا ہے ، بیانیے ،نظریئے اور پالیسی کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے میڈیا اور پراپیگنڈااہم زریعہ ہے ۔وہ بدھ کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں پنجاب کی وزارت برائے خواتین کی ترقی اور پیغام پاکستان سینٹر فار پیس کے اشتراک سے "دختران پاکستان ویژن2020 ” مشاورتی اجلاس سے خطاب کررہیں تھیں ۔وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب اور پنجاب کی وزارت خواتین کی ترقی کو مبارکباد دیتی ہوں جنہوں نے پاکستان کی ضرورت کے ساتھ جڑے منصوبے کا عملی طور پر آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے کے اندر سماجی اورثقافتی اقدار کو مسخ کر کے اسےاسلام کا رنگ دیا جاتا ہے، ہر خطے کے اندر رہنے والے افراد یا معاشرے کے ساتھ جڑے اسکے مختلف رنگ ہیں لیکن پاکستان کا سب سے حسین رنگ اسکی دختران کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلامی فلاحی ریاست ہے اور دنیا میں واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا ہے ،اسلام کے نام پر بننے والے ملک کی سب سے بڑی طاقت اسلامی سوچ اور فلاسفی تھی لیکن اسے ہی ہماری کمزوری بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مغرب نے ہمارے دین کے مثبت پہلوﺅں کو بھی منفی انداز سے پیش کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میڈیا اور پرپیگنڈا اہم زریعہ ہے جو بیانیے ،نظریئے اور پالیسی کو دوسروں تک پہنچانے کا زریعہ ہے ، عالمی سطح پر نامور میڈیا ہاﺅسز اسلام مخالف سوچ رکھنے والوں کے قبضے میں ہے جہاں پراسلام کا مسخ چہرہ دنیا کے سامنے اس انداز سے پیش کیا ہے جس کا حقائق سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے امیج کو مٹھی بھر عناصر اور اسلام کے ٹھیکداروں کے زریعے متاثر کیا ،اس قوم میں نہ کوئی انتہا پسند ہے نہ اسلام کا ماننے والا دہشت گرد ہوسکتا ہے اور نہ حضورﷺ پر یقین رکھنے والا کسی دوسرے کو اذیت دیکر سکون محسوس کر سکتا ہے یہ ہماری اسلامی سوچ کی نفی ہے ،جس بنیﷺ کو ہم مانتے ہیں وہ ہمارے لئے رول ماڈل ہے۔ انہوں نے جب اسلام کا ظہور ہوا تو بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا اورلونڈیوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا تھا اس مائنڈ سیٹ کو شکست دینے کے لئے حضورﷺ آئے تھے، قرآن پاک کے اندر سب سے زیادہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے سورة مریم اور سورة نساءمیں آیات ہیں، قرآن پاک ہمارے لئے دنیا بھر کی کتابوں میں انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کا بہترین چارٹر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حضورﷺ نے اپنی بیٹی کے لئے چادر بچھا کر جو پیغام دیا وہ ہی تمام دختران کے لئے کوڈ آف کنڈیکٹ ہے، دنیا کی پہلی تاجر مسلم خاتون حضرت خدیجہ الکبری کے ساتھ حضورﷺ نے شادی کر کے پیغام دیا کہ با اختیار خواتین کی پہلی بنیاد رکھ رہے ہیں ،حضرت خدیجہ الکبری تجارت سے جو سرمایہ کمایا کرتی تھیں وہ دین اسلام کی ترویج کے لئے استعمال ہوتا تھا ، خواتین دین اسلام کی ترویج اور اشاعت کے لئے خواتین کا کردار بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ دختران پاکستان کا مسئلہ ہے وہ اپنی سمت کھو گئی ہے، ایک طرف ایک ایسا مغرب کے ساتھ جڑی یلغار ہے جس میں ٹیکنالوجی اور ترقی اور دوسری جانب حقائق پر مبنی بیانیہ ہے جس کو ہم اگلی نسل کے ساتھ منسلک نہیں کر پارہے ،قوم کی مائیں اس بیانیے کو جو ہمیں منتقل ہوا اسے اگلی نسل کو منقتل نہیں پارہی ،پاکستان میں بسنے والی بیٹی اور بہن قوم کا وہ قیمیتی اثاثہ ہے جس سے اگلی نسلی کی تعلیم اور تربیت میں حصہ ڈالنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج کے ڈیجٹیل دور میں پاکستان کو بھی دنیا کی کامیابی کہانیوں اور کامیابیوں سے کے ساتھ اپنی شناخت کو مٹائے بغیر، چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیے بغیر اپنی اس طاقت ،قوت اور صلاحتیوں کو ڈھال کر ان کامیابیوں کو سماجی اورثقافتی اقدار کے ساتھ منسلک کریں ، اس سے لاتعلق بھی نہیں رہ سکتے کیونکہ دنیا منسلک اورقوموں کا آپس میں جڑنے کا عمل جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا گلوبل ویلیج بن چکا ہے اب خبر سکینڈ میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ رہی ہے ۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ مسلمان ملک میں ایک پاکستانی عورت کے طور پر پہچانی جاتی ہں یہ ہی میرا اعزاز ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری دختران نے اس معاشر ے میں کیسے اپنی جگہ بنانی ہے ،ایک طرف حکومت ،ایک طرف معاشرہ اور دونوں کے ساتھ جڑا آپ کا اپنے گھر اور خاندان کا ماحول اور سوچ کا مختلف انداز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں مرد کے پاس ہر طرح کے مواقع ،سہولیات اور وسائل ہونا اس کا حق ہے اور بیٹی ،بہن ،ماں ،بیوی کے اوپر قدغن ہے اسلام اس پر قدغن نہیں لگاتا ،اسلام نے حقوق اور فرائض میں توازن کا راستہ دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے سفر میں قائداعظم نے فاطمہ جنا ح کے ساتھ ملکر پاکستان کا قیام عمل میں لائے ،استحکام پاکستان کے لئے 72سال لگے، مشکل راستوں پر چلتے ہوئے کٹھن سفر طے کر لیا ےہ ،اب استحکام پاکستان کا سفر پر رواں دواں ہیں۔