اوسلو ۔2جنوری (اے پی پی):ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے نئے سال کے موقع پر اپنے خطاب میں گرین لینڈ کے حوالے سے دباؤ ڈالنے پر ملک کے ’’قریبی ترین اتحادی‘‘ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہو ئے کہا کہ کسی ملک اور اس کے عوام کو خریدی جانے والی چیز نہیں سمجھا جا سکتا۔شنہوا کے مطابق اگرچہ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کسی ملک کا نام نہیں لیا، …
ڈنمارک کی وزیراعظم کا نئے سال کے خطاب میں قریبی اتحادی پر سخت تنقید، گرین لینڈ تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا

مزید خبریں
اوسلو ۔2جنوری (اے پی پی):ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے نئے سال کے موقع پر اپنے خطاب میں گرین لینڈ کے حوالے سے دباؤ ڈالنے پر ملک کے ’’قریبی ترین اتحادی‘‘ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہو ئے کہا کہ کسی ملک اور اس کے عوام کو خریدی جانے والی چیز نہیں سمجھا جا سکتا۔شنہوا کے مطابق اگرچہ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے واضح طور پر کہا کہ گزشتہ برس ایک ایسے ملک کی جانب سے ’’دھمکیوں، دباؤ اور تحقیر آمیز گفتگو‘‘ کا سامنا رہا جسے وہ زندگی بھر کا قریبی اتحادی سمجھتی ہیں۔ ان کا اشارہ بالواسطہ طور پر امریکا کی جانب تھا۔
وزیراعظم فریڈرکسن نے اپنی سرکاری رہائش گاہ سے خطاب کرتے ہوئے معیشت اور سماجی بہبود سمیت مختلف قومی امور پر بات کی، تاہم ان کے خطاب کا سخت ترین حصہ گرین لینڈ سے متعلق جغرافیائی و سیاسی دباؤ پر مرکوز رہا، جو ڈنمارک کی خود مختار ریاستی سلطنت کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر گرین لینڈپر تنازع سامنے آ گیا ہےاور اس سوچ کو تنقید کا نشانہ بنایا جو کسی دوسرے ملک اور اس کے عوام پر قبضے کی خواہش رکھتی ہے۔ ان کے بقول یہ ایک فرسودہ تصور ہے، ’’گویا کسی قوم کو خریدا اور اس کی ملکیت حاصل کی جا سکتی ہو۔
ڈنمارک کی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ان کا ملک عالمی سطح پر اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہے اور کسی تصادم کا خواہاں نہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ’’چاہے کچھ بھی ہو، ہم حق اور باطل کے معاملے پر ڈٹے رہیں گے۔یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 21 دسمبر 2025 کو لوزیانا کے گورنر جیف لینڈری کو گرین لینڈ کے لیے امریکا کا خصوصی ایلچی مقرر کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد امریکا اور ڈنمارک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ جنوری 2025 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے متعدد بار گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے میں دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں اور اس مقصد کے لیے فوجی یا معاشی دباؤ کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔








