میلبورن۔16جنوری (اے پی پی):اٹلی کے شہرہ آفاق ٹینس سٹار اور عالمی نمبر ٹو جینک سنر نے کہا ہے کہ گزشتہ سال عائد کی گئی تین ماہ کی ڈوپنگ پابندی نے انہیں بطور انسان مزید مضبوط اور کورٹ پر زیادہ پُرسکون بنا دیا ہے جبکہ وہ آسٹریلین اوپن ٹائٹل کے دفاع کی تیاری کر رہے ہیں۔ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق 24 سالہ اطالوی کھلاڑی گزشتہ برس میلبورن پارک شدید دباؤ کے ساتھ …
ڈوپنگ سکینڈل نے مجھے مزید مضبوط بنا دیا، جینک سنر

مزید خبریں
میلبورن۔16جنوری (اے پی پی):اٹلی کے شہرہ آفاق ٹینس سٹار اور عالمی نمبر ٹو جینک سنر نے کہا ہے کہ گزشتہ سال عائد کی گئی تین ماہ کی ڈوپنگ پابندی نے انہیں بطور انسان مزید مضبوط اور کورٹ پر زیادہ پُرسکون بنا دیا ہے جبکہ وہ آسٹریلین اوپن ٹائٹل کے دفاع کی تیاری کر رہے ہیں۔ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق 24 سالہ اطالوی کھلاڑی گزشتہ برس میلبورن پارک شدید دباؤ کے ساتھ پہنچے تھے، کیونکہ ڈوپنگ سکینڈل کے بعد ان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا ہوا تھا۔ اس کے باوجود جینک سنر نے تمام تر دباؤ کو ایک طرف رکھتے ہوئے آسٹریلین اوپن کا ٹائٹل جیت لیا، تاہم بعد ازاں 2024 میں ممنوعہ اینابولک سٹرائیڈ کے دو مثبت ٹیسٹ آنے پر انہیں تین ماہ کی معطلی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
جینک سنر نے ہمیشہ مؤقف اختیار کیا کہ ممنوعہ مادہ نادانستہ طور پر ان کے جسم میں داخل ہوا، جب ان کے فزیوتھراپسٹ نے ایک زخم کے علاج کے لیے ایسا سپرے استعمال کیا جس میں یہ دوا شامل تھی۔ عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) نے تسلیم کیا کہ جینک سنر کا دھوکہ دینے کا ارادہ نہیں تھا، تاہم اس کے باوجود انہیں اپنے معاون عملے کے اقدامات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے پابندی عائد کی گئی۔جمعہ کو میڈیا سے گفتگو میں جینک سنر نے کہا کہ گزشتہ سال یہ وقت میرے لیے کہیں زیادہ مشکل تھا، کیونکہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ کورٹ میں کھیلتے وقت بھی یہ بات میرے ذہن میں رہتی تھی۔ یہ صرف میرے لیے ہی نہیں بلکہ میرے خاندان کے لیے بھی مشکل دور تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس دوران اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ رہنے کی کوشش کرتے رہے، جو بعض اوقات مددگار ثابت ہوا، تاہم بعض لمحات مایوس کن بھی رہے۔جینک سنر کی پابندی مئی 2025میں ختم ہوئی، جس کے بعد انہوں نے شاندار واپسی کرتے ہوئے ومبلڈن اور اے ٹی پی فائنلز جیتے اور سیزن کا اختتام عالمی نمبر ٹو کے طور پر کیا، جہاں وہ صرف اپنے بڑے حریف کارلوس الکاراز سے پیچھے رہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس تجربے نے انہیں زیادہ بالغ اور مضبوط انسان بنا دیا ہے۔میرا ماننا ہے کہ زندگی میں ہر چیز کسی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس واقعے نے مجھے بطور انسان مزید مضبوط بنایا۔ اب میں چیزوں کو مختلف انداز سے دیکھتا ہوں، خاص طور پر جب معاملات درست سمت میں نہ جا رہے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اب وہ کھیل کو پہلے سے زیادہ پُرسکون انداز میں لیتے ہیں۔کورٹ پر نتیجہ جو بھی ہو، وہ میرے لیے اضافی چیز ہے۔ اب میں مکمل توازن کے ساتھ کھیلتا ہوں اور اپنی پوری کوشش کرتا ہوں۔گزشتہ سال جینک سنر نے آسٹریلین اوپن کے فائنل میں الیگزینڈر زویروف کو سٹریٹ سیٹس میں شکست دی تھی جبکہ 2024 کے فائنل میں انہوں نے ڈینیئل مدویدیف کے خلاف دو سیٹس ہارنے کے بعد شاندار واپسی کی تھی۔ اگر وہ اس بار مسلسل تیسری مرتبہ ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ اوپن ایرا میں یہ کارنامہ انجام دینے والے دوسرے کھلاڑی ہوں گے، اس سے قبل یہ اعزاز صرف سربین ٹینس سٹار نوویک جوکووچ کو حاصل ہے۔رواں سال جینک سنر کا پہلا مقابلہ فرانس کے ہیوگو گاسٹون سے ہوگا۔








