کمبوڈیا ۔ 19 نومبر (اے پی پی) ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت کی جانب سے یکطرفہ طور پر اٹھائے گئے ظالمانہ اقدامات کے نتیجے میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی صورتحال سے ایشیائ پیسیفک سربراہی اجلاس 2019 کے دوسرے روز مندوبین کو آگاہ کرتے ہوئے ان کی توجہ ایک مرتبہ پھر اس طرف دلائی کہ …
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کا ایشیاء پیسیفک سربراہی اجلاس 2019 سے خطاب

مزید خبریں
کمبوڈیا ۔ 19 نومبر (اے پی پی) ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت کی جانب سے یکطرفہ طور پر اٹھائے گئے ظالمانہ اقدامات کے نتیجے میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی صورتحال سے ایشیائ پیسیفک سربراہی اجلاس 2019 کے دوسرے روز مندوبین کو آگاہ کرتے ہوئے ان کی توجہ ایک مرتبہ پھر اس طرف دلائی کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مختلف قراردادوں میں کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم کیا گیا ہے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاو¿ن، کرفیو اور مواصلات پر پابندی کی وجہ سے کشمیریوں کے بنیادی حقوق اور آزادی کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ قاسم خان سوری نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ کانفرنس کے مندوبین بھارت پر دباو¿ ڈالنے کے لیے اس سے اپنے اچھے تعلقات استعمال کریں تاکہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے اختیار کردہ یکطرفہ غیر قانونی اقدامات منسوخ کیے جا سکیں اور جموں و کشمیر سے متعلق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کیا جا سکے۔ ایشیائ پیسیفک سربراہی اجلاس 2019 کے دوسرے روز پیس پیلس فونم پن کمبوڈیا میں اجلاس کے مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے انہیں آگاہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں 22 ہزار سے زائد خواتین کو بیوہ بنا دیا گیا ہے، ایک لاکھ بچوں کو یتیم اور گیارہ ہزار سے زائد خواتین کی آبرو سے کھیلا گیا۔ بھارتی جارحیت کے ہزاروں متاثرین کی آٹھ ہزار سے زائد بے نامی مجموعی قبریں دریافت ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معصوم لوگوں کو زندگی کی بنیادی ضروریات تک رسائی ناممکن بنا دی گئی ہے۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ یونائیٹڈ نیشنز ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق کے دفتر نے جموں و کشمیر میں بھارتی قابض فوج کیجانب سے طاقت کے بیجا اور بے تحاشا استعمال بشمول پیلٹ گنز کے اندھا دھند استعمال پر دستاویزات تیار کی گئی ہیں۔ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اپنے لوگوں کی حقیقی نمائندہ ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتی اگر وہ ستم رسیدہ طبقات خصوصاََ بچوں، خواتین، بزرگوں اور اقلیتوں کی حفاظت اور ان کے حقوق کے تحفظ میں ناکام رہتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم سب اپنی مشترکہ ترقی کیلئے امن کو فروغ دینے کا عہد کریں۔ ہم اپنے بہت سے لوگوں کے دکھوں اور پریشانیوں پر اپنے کان بہرے نہ کریں اور نظریں نہ پھیریں۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کی تقریر کے دوران بھارتی وفد کو اس وقت شدید ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا جب بھارتی وفد میں شامل بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماء وجے جولی نے قاسم خان سوری کی مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے متعلق تقریر کے دوران شور شرابہ کیا اور تقریر رکوانے کی ناکام کوشش کی۔ وجے جولی کو جاری اجلاس میں رخنہ ڈالنے کی ناکام کوشش پر سیکورٹی اسٹاف نے دھکے دے کر ھال سے باہر نکال دیا۔ ہندوستانی وفد کو ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی سطح پر ہزیمت اٹھانی پڑی۔ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کی تقریر ختم ہونے پر ایرانی وفد کے سربراہ نے کشمیر کے حوالے سے جرآت مندانہ موقف اختیار کرنے پر ان کی حمایت اور حوصلہ افزائی کی۔ واضح رہے کہ دو ماہ قبل بھی مالدیپ میں ہونے والی اسپیکر کانفرنس میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری اور راجیا سبھا کے ممبران میں کشمیر میں مظالم کا ذکر کرنے پر جھڑپ ہوئی تھی۔ ایشیائ پیسیفک سربراہی اجلاس 2019 میں شریک پاکستانی وفد میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، سینیٹر مشاہد حسین سید، ممبران قومی اسمبلی ساجد حسین طوری، محمد اکرم چیمہ، جمیل احمد خان، محبوب شاہ، سابقہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی، ممبر صوبائی اسمبلی حنا پرویز بٹ اور تنویر ملک شامل ہیں۔








