لاہور۔11نومبر (اے پی پی):ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں معیشت کا بنیادی کردار ہے، تاجر برادری کو درپیش مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے‘ تجارتی، مالیات اور معیشت سے متعلق پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیوں میں شرکت کےلئے تاجر برادری کا خیرمقدم کریں گے‘ کورونا وبا کے دوران بھی کاروباری سرگرمیاں جاری رکھی گئیں جو اس بات کا …
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کالاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کادورہ
لاہور۔11نومبر (اے پی پی):ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں معیشت کا بنیادی کردار ہے، تاجر برادری کو درپیش مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے‘ تجارتی، مالیات اور معیشت سے متعلق پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیوں میں شرکت کےلئے تاجر برادری کا خیرمقدم کریں گے‘ کورونا وبا کے دوران بھی کاروباری سرگرمیاں جاری رکھی گئیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت تاجر برادری کی ہر ممکن مدد کے لئےسنجیدہ ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کے روز لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورہ کے موقع پر کیا۔صدر لاہور چیمبر میاں طارق مصباح، سینئر نائب صدر ناصر حمید خان، نائب صدر طاہر منظور چوہدری، سابق نائب صدر میاں زاہد جاوید احمد، لاہور چیمبر کے ایگزیکٹو کمیٹی ممبران شاہد نذیر، فیاض حیدر، شیریں ارشد خان، حاجی آصف سحر اور ملک ریاض اقبال بھی اس موقع پر موجود تھے۔ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ حکومت کاروباری برادری کے تمام مسائل کے حل کو یقینی بنائے گی اور ملک میں کاروباری سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لئے ان کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔انہوں نے کہاکہ حکومت تاجروں کو ہر ممکن تعاون کرنے کےلئے پر عزم ہے اور اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ حالیہ کورونا وبا میں بھی حکومت نے کاروباری سرگرمیاں جاری رکھیں۔ڈپٹی اسپیکر نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری حکومتی معاشی پالیسیوں کا حصہ ہو گا۔ قاسم خان سوری نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں معیشت کا بنیادی کردار ہے، مضبوط تجارتی پالیسیوں کی عدم موجودگی کی وجہ کمزور جمہوری نظام ہے ‘موجودہ حکومت اس بات کو یقینی بنارہی ہے کہ کاروباری دوست پالیسیاں طویل مدتی ہوں۔انہوں نے کہا کہ بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے پیچھے زیادہ آبادی ایک بنیادی وجہ ہے‘کورونا وبا کے دوران ہمیں سخت خدشات لاحق تھے کہ اگر یہ بیماری مزید پھیل گئی تو ہم اتنے بڑے پیمانے پر صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے قابل کیسے ہوں گے‘لیکن اللہ تعالی کا شکر ہے کہ حکومت نے بہتر حکمت عملی کے تحت اس مشکل حالات پر قابو پایا ‘ حکومتی اقدامات کی پوری دنیا معترف ہے ۔انہوں نے مزےد کہا کہ شروع میں ہمےں وینٹیلیٹرز کی کمی کا سامنا تھا اور ہم اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ماسک جیسی چھوٹی چھوٹی اشیا درآمد کر رہے تھے‘ اب ہم نہ صرف ماسک اور وینٹیلیٹرز تیار کررہے ہیں بلکہ ان اشیا کو برآمد بھی کررہے ہیں‘ کورونا وائرس سے لڑنے کےلئے تاجر برادری کی مدد اور شراکت سے ہم اس بیماری پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ ضرورتمند شہریوں کی مدد کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔علاقائی تجارت کے بارے میں بات کرتے ہوئے قاسم خان سوری نے کہا کہ حالیہ برسوں میںہمسایہ ملک افغانستان کو ہماری برآمدات میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے، اس کی وجہ پڑوسی ملک میں بدامنی ہے‘ موجودہ حکومت افغانستان میں کسی بھی سرکاری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے اور ایسی پالیسیاں تشکیل دے رہی ہے جس کی مدد سے ہمارے برآمد کنندگان کو افغانستان میں آزادانہ طور پر ایکسپورٹ کرنے کا موقع ملے گا۔اس موقع پر صدر لاہور چیمبر میاں طارق مصباح نے کہا کہ حکومت حالیہ بحران کے باوجود معیشت اور کاروبار کی بحالی کے لئے تمام ممکنہ وسائل کا پوری طرح سے استعمال کررہی ہے‘ کرنٹ اکاو ¿نٹ خسارے کو 20 ارب ڈالر سے کم کرکے 3 ارب ڈالر کرنے میں حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ متعدد اسکیموں کے ذریعے کوویڈ 19 کی وبا سے متاثرہ کاروباروں کی حمایت میں حکومت اور پوری پارلیمنٹ نے جو اتحاد دکھایا وہ قابل تحسین ہے۔میاں طارق مصباح نے ڈپٹی اسپیکر سے درخواست کی کہ وہ ملک میں جاری قیمتوں میں اضافے پر قابو پانے کے لئے ممبر پارلیمنٹ کو موثر قانون سازی کرنے کے لئے خصوصی کردار ادا کریں۔لاہور چیمبر کے صدر نے ممبران پارلیمنٹ سے درخواست کی کہ وہ ملک میں صنعت کاری کے عمل کو بڑھانے کے لئے ایک خصوصی چارٹر تشکیل دیں جس پر وفاقی حکومت کی تبدیلی کے قطع نظر اس پر عمل درآمد ہوتا رہنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ تجارت سے متعلق پالیسیاں بناتے وقت نجی شعبے کے نمائندوں کو بھی شامل کےا جانا چاہئے‘ اس مقصد کے لئے قومی اسمبلی میں قائمہ کمیٹیاں بہترین فورم ثابت ہوسکتی ہیں‘ لاہور چیمبر کو ان کمیٹیوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع دیا جانا چاہئے‘ اس سے بزنس کمیونٹی کو درپیش ان اہم مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے تاجر برادری کی مخصوص تجاویز پیش کی جائیں گی۔









