اسلام آباد ۔ 2 اپریل (اے پی پی) ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قا سم خان سوری نے کہا ہے کہ خواتین قوم کا انمو ل اثاثہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے جن کو بروئے کار لا کر وہ ملک کی تقدیر بدل سکتی ہیں، خواتین کی صلاحیتوں کو مثبت سماجی و اقتصادی سرگرمیوں میں منتقل کرنے کےلئے ان کی حو صلہ افزائی اور …
ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قا سم خان سوری کی ینگ ویمن لیڈرشپ کانفرنس کے شرکاءسے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 اپریل (اے پی پی) ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قا سم خان سوری نے کہا ہے کہ خواتین قوم کا انمو ل اثاثہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے جن کو بروئے کار لا کر وہ ملک کی تقدیر بدل سکتی ہیں، خواتین کی صلاحیتوں کو مثبت سماجی و اقتصادی سرگرمیوں میں منتقل کرنے کےلئے ان کی حو صلہ افزائی اور صحیح سمت میں رہنمائی ضروری ہے، پاکستان میں خواتین ہر شعبہ میں بہادری اور جرا¾ت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نمایاں خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ینگ ویمن لیڈرشپ کانفرنس کے شرکاءکے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے منگل کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں ان سے ملاقات کی۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ پاکستان کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ آبادی کے اس اہم حصہ کو قومی اقتصادی دھارے میں شامل کرے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت وزیرِاعظم عمران خان کی قیادت میں خواتین کو قومی اقتصادی دھارے میںشامل کرنے کےلئے محفوظ اور ہر قسم کے تشدد سے پاک ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانے کےلئے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے خواتین کی ہر شعبہ ہائے زندگی میں کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین ہر شعبہ ہائے زندگی میں نمایاںخد ما ت سر انجام دے رہی ہیں خصوصاّ تعلیم اور طب کے شعبوں میں ان کی خدمات قابلِ ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والی بچیوں پر فخر ہے۔ انہوں نے بچیوں پر اپنے مقاصد کے حصول کےلئے بھرپور محنت کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہو ئے کہا کہ جب بندہ ارادہ کر لیتا ہے اور اس کےلئے محنت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی مدد فرماتے ہیں اور کامیابی اس کے قدم چومتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل کےلئے خواتین کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک معاشرے کی خواتین کی ہر شعبہ ہائے زندگی میں شمولیت نہ ہو۔ خواتین اراکینِ پارلیمنٹ کی خدمات کو سراہتے ہوئے ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ اس وقت قومی اسمبلی میں خواتین اراکین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو خواتین کے حقوق کے تحفظ کےلئے قانون سازی اور ان قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کےلئے سخت محنت اور لگن سے اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کی قومی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تحریک پاکستان میں قائداعظم کا جس طرح ساتھ دیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں خواتین کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور ینگ ویمن لیڈرشپ کانفرنس خواتین میں سیاسی شعور اُجاگر کرنے اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کےلئے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ سب خوش قسمت ہیں جو اس کانفرنس میں شامل ہیں کیو نکہ مستقبل میں آپ سیاست میں حصہ لے کر ملک کی تقدیر بدل سکتی ہیں۔ انہوں نے خواتین کے روشن مستقبل کےلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ہیومن ریسورس ڈویلیپمنٹ نیٹ ورک کی کاوشوں کو سراہا جس نے ملک بھر کے مختلف اضلاع کی بچیوں کو یہ موقع فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین کو بھی اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے اور ان خواتین کو بھی اس ایچ آر ڈی جیسے اداروں کی توجہ کی ضرورت ہے ۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر ایچ آر ڈی این روبیلا بنگش دار اور دیگر شرکاءنے پارلیمنٹ کے دورے کا موقع فراہم کرنے پر ڈپٹی سپیکر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پا کستان کا روشن مستقبل خوا تین کے روشن مستقبل سے وابستہ ہے کیونکہ خواتین قیادت گھر اور ملکی سطح پر انقلاب لا سکتی ہے۔ اجلاس کے آخر میں سوالات و جوابات کا سیشن ہوا جس میں ڈپٹی سپیکر نے ینگ ویمن لیڈر شپ کانفرنس کی شرکاءکے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ملک کو ایک ایسی فلاحی ریاست بنانے کے خواہاں ہیں جہاں معاشرے کے تمام طبقوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں۔ پاکستان کا روشن مستقبل خواتین کے روشن مستقبل سے وابستہ ہے جو گھر اور ملکی سطح پر انقلاب لا سکتی ہیں۔ ینگ ویمن لیڈر شپ کانفرنس کی شرکاءنے ڈپٹی سپیکر سے ملک کے سماجی، اقتصادی اور سیاسی امور سے متعلق سوالات پوچھے۔ سوالات کا جواب دیتے ہوئے ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ملک کو ایک ایسی فلاحی اسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں جو ہر قسم کے استحصال سے پاک ہو اور معاشرے کے ہر طبقہ کو مساوی حقوق حاصل ہوں۔ اجلا س میں ارا کین قومی اسمبلی اور سینیٹ نے بھی شر کت کی۔








