ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی قیادت میں پاکستان کا اعلی ٰسطحی پارلیمانی وفد20 جنوری سے امریکا کا 6 روزہ سرکاری دورہ کرے گا

اسلام آباد۔6جنوری (اے پی پی):ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی قیادت میں پاکستان کا اعلی ٰسطحی پارلیمانی وفد20 جنوری سے امریکا کا 6 روزہ سرکاری دورہ کرے گاجو امریکا اور پاکستان کے پارلیمانی تعلقات میں تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں ایک نئے ادارہ جاتی باب کا آغاز کرے گا۔سینیٹ سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق پاکستان پالیسی انسٹی ٹیوٹ یو …

اسلام آباد۔6جنوری (اے پی پی):ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی قیادت میں پاکستان کا اعلی ٰسطحی پارلیمانی وفد20 جنوری سے امریکا کا 6 روزہ سرکاری دورہ کرے گاجو امریکا اور پاکستان کے پارلیمانی تعلقات میں تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں ایک نئے ادارہ جاتی باب کا آغاز کرے گا۔سینیٹ سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق پاکستان پالیسی انسٹی ٹیوٹ یو ایس اے کے زیر اہتمام اس دورے میں پہلی بار باضابطہ طور پر امریکا پاکستان بین الپارلیمانی گروپ آئی پی جی کی شمولیت ہوگی جو سٹریٹجک اور غیر روایتی پارلیمانی سفارت کاری کے ذریعے حاصل کی گئی پیش رفت کی نمائندگی کرے گی اور براہ راست قانون ساز اسمبلی کے ذریعے جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرے گی۔ی

ہ اقدام اہم عالمی اور علاقائی تبدیلی کے وقت سامنے آیا ہے، خاص طور پر جنوبی ایشیا اور مشرق وسطی میں جہاں پارلیمانی اداروں کو بات چیت ،استحکام اور جمہوری طرز حکمرانی کو فروغ دینے میں اہم کرداروں کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔دورے کے سٹریٹجک مقاصد میں امریکی کانگریس اور پاکستان کے درمیان ایک مستقل بین الپارلیمانی مکالمے کا طریقہ کار قائم کرنا جمہوری اقدار، قانون سازی کے بہترین طریقوں اور پارلیمانی نگرانی کو فروغ دینا ،روایتی انتظامی سطح کی سفارت کاری سے آگے اداره جاتی تعاون کو مضبوط کرنا اور علاقائی اور عالمی مسائل پر پاکستان کے پارلیمانی نقطہ نظر کو پیش کرنے کے لئے پاکستانی امریکی باشندوں کے ساتھ روابط کو فروغ دینے اور سائنسی، ثقافتی اور پالیسی تعاون کو آگے بڑھانا شامل ہے۔

یہ دوره تاریخ سازی کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ پاکستان امریکا تعلقات کی 77 سالہ تاریخ میں کسی بھی سابق پاکستانی پارلیمانی وفد نے کانگریس کی سرپرستی میں رے برن باؤس آفس بلڈنگ کے اندر باضابطہ مصروفیات کا انعقاد نہیں کیا، اس دورے میں نیشنل پریس کلب، واشنگٹن ڈی سی میں پریس کانفرنس اور میڈیا کی مصروفیات اور نیو جرسی میں کمیونٹی اور پالیسی استقبالیہ بھی شامل ہوگا۔ توقع ہے کہ اس دورے سے باقاعدہ پارلیمانی تبادلوں، بہتر قانون سازی تعاون اور پاکستان اور امریکا کے درمیان ایک پائیدار ادارہ جاتی شراکت داری کی بنیاد رکھی جائے گی جو باہمی احترام، جمہوری اصولوں اور طویل مدتی سٹریٹجک مصروفیات پر مبنی ہے۔