جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کو غیر فوجی علاقے (ڈی ایم زیڈ میں بارودی سرنگ کے دھماکے پر معافی مانگنے پر مجبور کرنے کے لیے جوابی اقدامات کی تیاری کر رہا ہے
ڈی ایم زیڈ میں بارودی سرنگ دھماکا، جنوبی کوریا کا شمالی کوریا سے معافی کا مطالبہ

مزید خبریں
سیئول۔6اکتوبر (اے پی پی):جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کو غیر فوجی علاقے (ڈی ایم زیڈ میں بارودی سرنگ کے دھماکے پر معافی مانگنے پر مجبور کرنے کے لیے جوابی اقدامات کی تیاری کر رہا ہے، واقعے میں تین جنوبی کوریائی فوجی زخمی ہوئے جن میں سے دو شدید زخمی تھے ۔رائٹرز نے جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کی ترجمان چنگ بن نا کے حوالے سے بتایا کہ سیئول شمالی کوریا سے فوجی حد بندی لائن (ایم ڈی ایل) کے تعین میں موجود اختلافات پر بات چیت کے لیے مذاکرات کی میز پر آنے کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 21 ستمبر کو ہونے والے دھماکے کے حوالے سے جنوبی کوریا اور اقوام متحدہ کی کمان کی مشترکہ تحقیقات کے نتائج کے مطابق بارودی سرنگیں شمالی کوریا نے نصب کی تھیں، تاہم ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ جنوبی کوریا اس واقعے کے جواب میں کون سے اقدامات کرے گا۔ترجمان نے کہا کہ شمالی کوریا کو ایم ڈی ایل کے جنوب میں ڈی ایم زیڈ میں نصب کی گئی بارودی سرنگیں ہٹانی چاہئیں۔ انہوں نے تاہم کہا کہ دونوں کوریائی ممالک کے درمیان جزیرہ نما کوریا کو تقسیم کرنے والی فوجی حد بندی لائن کے درست تعین پر اختلافات موجود ہیں جو علاقے میں کشیدگی کی ایک وجہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایم ڈی ایل مشرقی اور مغربی ساحلوں کے درمیان 200 کلومیٹر سے زائد طویل ہے اور اس پر تقریباً 1900 نشانات نصب ہیں، تاہم 1953 میں جنگ کوریا کے اختتام پر حد بندی کے بعد ڈی ایم زیڈ تک محدود رسائی کے باعث کئی دہائیوں میں بعض مقامات پر ان نشانات کی شناخت مشکل ہوگئی ہے۔ دوسری جانب شمالی کوریا نے گزشتہ جمعہ کو جنوبی کوریا کی جانب سے اس پر بارودی سرنگیں نصب کرکے جنوبی کوریائی فوجیوں کو زخمی کرنے کے الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ مسترد کردیا تھا۔ شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق کم جونگ ان کی بہن کم یو جونگ نے کہا کہ پیانگ یانگ نے سرحدی علاقے میں جان بوجھ کر بارودی سرنگیں نصب نہیں کی تھیں۔







