ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفورکی میڈیا کو بریفنگ

راولپنڈی۔ 27 فروری (اے پی پی) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے دو بھارتی جنگی جہاز مار گرانے اور 2 بھارتی پائلٹس کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فضائیہ نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے بھارت کے4 مقامات پر 6 سٹرائیکس کیں، پائلٹس نے فوجی اہداف اور سپلائی ڈپوز کونشانہ بنا کر لاک کر دیا اور پھر محفوظ فاصلے اور کھلی جگہ پر …

راولپنڈی۔ 27 فروری (اے پی پی) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے دو بھارتی جنگی جہاز مار گرانے اور 2 بھارتی پائلٹس کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فضائیہ نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے بھارت کے4 مقامات پر 6 سٹرائیکس کیں، پائلٹس نے فوجی اہداف اور سپلائی ڈپوز کونشانہ بنا کر لاک کر دیا اور پھر محفوظ فاصلے اور کھلی جگہ پر اسٹرائیک کی، پاک فضائیہ اگر لاک کیے گئے اہداف کو نشانہ بناتی تو جانی نقصانات ہوتے لیکن ایک مہذب اور پیشہ وارانہ فوج ہونے کے ناطے پاک فضائیہ نے ہداف کا نشانہ بنانے کے باوجود تباہ نہیں کیا ، پاکستان پرامن ملک ہے لیکن بھارت کو جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا ،پورے آپریشن کے دوران پاک فضائیہ نے ایف 16طیارے استعمال ہی نہیں کیے تو بھارت کی جانب سے ایف سولہ طیارہ مار گرانے کا دعوی کیسے درست ہوسکتا ہے ،پاکستان کی افواج کے پاس صلاحیت، طاقت اور عوام کا ساتھ ہر قسم کی چیز موجود ہے، ہم ذمہ دار رہنا چاہتے ہیں اور جنگ کی طرف نہیں جانا چاہتے، وزیراعظم پاکستان اور عوام نے بھی امن کا پیغام دیا، ہم کسی بھی صورت خطے کو جنگ کی طرف لے کر نہیں جانا چاہتے۔منگل کو ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صبح سے لائن آف کنٹرول پر کچھ سرگرمی چل رہی ہے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے پاک فضائیہ اپنے ٹارگٹ لینے سے پہلے فیصلہ کیا کہ کہ کوئی ملٹری ہدف نہیں لیا جائے گا، دوسرا فیصلہ کیا کہ ٹارگٹ میں کسی انسانی زندگی کا نقصان نہ ہو، ہمارے اس فیصلے کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے پاس جوابی صلاحیت موجود ہے لیکن کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جو ہمیں غیر ذمہ دار ثابت کرے۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاک فضائیہ نے بھمبر گلی، کے جی ٹو اور ناریان کے علاقے میں ڈپوز پر ٹارگیٹ لاک کیا اور ہم نے حفاظتی فاصلہ رکھتے ہوئے ہدف کو نشانہ بنا تے ہوئے مجموعی طور پر 6سٹرائیکس کی گئیں ، جس کا مقصد یہ تھا کہ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں لیکن اس خطے کے امن کو خراب کرنا نہیں چاہتے، ہم ذمہ دار رہنا چاہتے، کشیدگی نہیں چاہتے ، ہم جنگ کی طرف نہیں جانا چاہتے، وزیر اعظم اور عوام نے بھی امن کا پیغام دیا اور ہم کسی بھی صورت اس خطے کو جنگ کی طرف نہیں لے جانا چاہتے۔انہوں نے بتایا کہ جب پاک فضائیہ نے ہدف لے لیے اس کے بعد بھارتی فضائیہ کے 2 جہاز ایک بار پھر ایل او سی کی خلاف ورزی کرکے ہماری طرف آئے، ہماری فضائیہ تیار تھی جس کے نتیجے میں دونوں بھارتی جہاز گرے جس میں سے ایک جہاز ہماری اور دوسرا ان کی طرف گرا، اس کے علاوہ بھی ایک جہاز کے گرنے کی اطلاع ہے لیکن اس کے ساتھ ہماری انگیجمنٹ نہیں ہوئی۔ترجمان پاک فوج نے دو بھارتی پائلٹوں کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی پائلٹوں کے ساتھ مہذب ملک کی طرح سلوک کیا، ایک زخمی پائلٹ کو سی ایم ایچ منتقل کردیا اور دوسرا ہماری حراست میں ہے، پائلٹس سے کچھ دستاویزات بھی ملی ہیں۔انہوں نے پاکستان کے ایف سولہ طیارے کو گرانے کے بھارتی دعوے کو بھی مسترد کیا اور بتایا کہ پاکستان نے اس جنگ میں ایف 16 استعمال ہی نہیں کیا، اس لیے پاکستان کا کوئی جہاز نہیں گرایا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور پاک فضائیہ کے پاس جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، لیکن جواب کیسے دیا جاتا، کیا اسی طریقے سے جیسے بھارت نے دیا یا وہ طریقہ جو ایک ذمہ دار ملک کا ہوتا ہے، ہم ذمہ دار ریاست ہیں اور امن چاہتے ہیں، ہم نے ذمہ داری کا ثبوت دیا اور اپنے ٹارگٹ کو پورا کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ ہم سب کچھ کرسکتے ہیں لیکن خطے کے امن کی وجہ سے نہیں کرنا چاہتے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دونوں ریاستوں کے پاس صلاحیت ہے لیکن بھارت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جنگ صرف پالیسیوں کی ناکامی ہے، ہم اب بھی بڑھاوا نہیں دینا چاہتے، ہم امن کے راستے پر چلنا چاہتے ہیں، اگر آپ کہتے ہیں کہ اپنے لوگوں کو تعلیم، صحت اور روزگار دینے کی ضرورت ہے تو پھر بات چیت کریں جنگ مسئلوں کا حل نہیں، دنیا میں کوئی مسئلہ جنگ سے حل نہیں ہوا، بھارت کو چاہیے ہماری پیشکش پر ٹھنڈے دل سے غور کرے اور دیکھے ہم کہاں جانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم نے مختلف جواب دیا اس طرح پاکستانی میڈیا نے بھی امن کی صحافت کی، ہم نے اپنے دفاع میں ایکشن کیا، میڈیا سے درخواست ہے کہ امن کے راستے کی رپورٹ کریں، اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس وقت کی رپورٹنگ مختلف ہوتی ہے، ہمیں ریاستِ پاکستان، حکومتِ پاکستان اور باصلاحیت افواج کے طور پر امن کا پیغام دینا ہے، ہم نے پیغام دیا ہے کہ صلاحیت ہونے کے باوجود ہم امن کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں، اگر ہم پر جارحیت مسلط کی گئی تو ہم جواب دیں گے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے ایل او سی کی خلاف ورزی کی، جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، ہم ذمہ دار ملک اور امن چاہتے ہیں، جنگ دنیا کے کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

Leave a Reply