کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی امور کا اجلاس،ایف آئی اے ایکٹ، پاکستان پینل کوڈ اور ضابطہ فوجداری میں ترامیم کی منظوری

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی امور کے اجلاس میں ایف آئی اے ایکٹ 1974، پاکستان پینل کوڈ 1860، ضابطہ فوجداری 1898 اور سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے متعلقہ وزارتوں کو ضروری ترامیم اور سفارشات شامل کرنے کی ہدایت کی گئی

اسلام آباد۔28ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے تصفیہ قانون سازی امور کے اجلاس میں ایف آئی اے ایکٹ 1974، پاکستان پینل کوڈ 1860، ضابطہ فوجداری 1898 اور سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے متعلقہ وزارتوں کو ضروری ترامیم اور سفارشات شامل کرنے کی ہدایت کی گئی۔ترجمان کے مطابق اجلاس میں متعلقہ وزارتوں، محکموں اور ڈویژنز کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی نے اپنے سامنے پیش کئے گئے مختلف قانونی و انتظامی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ وزارتوں کو ضروری ترامیم اور سفارشات شامل کرنے کی ہدایت کی۔کمیٹی نے ایف آئی اے ایکٹ 1974 میں مجوزہ ترامیم کو اپنی سفارشات اور ضروری ترامیم شامل کرنے سے مشروط کرتے ہوئے منظور کیا۔ پاکستان پینل کوڈ 1860 اور ضابطۂ فوجداری 1898 میں مجوزہ ترامیم بھی ضروری ترامیم اور سفارشات شامل کرنے سے مشروط کرتے ہوئے منظور کی گئیں۔کمیٹی نے سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں مجوزہ ترامیم کی بھی ضروری ترامیم شامل کرنے سے مشروط منظوری دے دی۔اجلاس میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ترمیمی بل 2026 کا معاملہ موخر کر دیا گیا جبکہ امیگریشن رولز 1979 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دے دی گئی۔کمیٹی نے نیشنل ہائی وے سیفٹی آرڈیننس 2000 کے تحت اوورلوڈنگ پر جرمانوں میں اضافے کی تجویز واپس لینے کا فیصلہ بھی کیا۔